کراچی (لارڈ میڈیا): اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے اپنی مانیٹری پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے بنیادی شرح سود کو 11.5 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ ملکی معاشی صورتحال اور عالمی منظرنامے کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔
اسٹیٹ بینک نے یہ اعلان اپنی آفیشل ویب سائٹ پر جاری کیا۔ بینک کے مطابق مانیٹری پالیسی کمیٹی نے 15 جون کو منعقدہ میٹنگ میں شرح سود برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا۔
معاشی ماہرین کے مطابق مرکزی بینک کا یہ اقدام امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے تاریخی امن معاہدے کے بعد سامنے آیا ہے، جس سے توقع کی جارہی ہے کہ پاکستان کے بیرونی کھاتوں پر دباؤ میں کمی آئے گی اور خام تیل کی قیمتیں نیچے آئیں گی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ شرح سود برقرار رکھنے کا مقصد مہنگائی کو کنٹرول میں رکھنا اور معاشی استحکام کو یقینی بنانا ہے۔ ماضی میں بھی مرکزی بینک نے عالمی غیر یقینی صورتحال کے باعث محتاط پالیسی اپنائی ہے۔
شرح سود برقرار رکھنے کے اثرات کے بارے میں ماہرین کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے سیمنٹ، آئی ٹی، اسٹیل، اور آٹو انڈسٹری سیکٹر میں مثبت اثرات مرتب ہوں گے اور سرمایہ کاری میں تیزی آئے گی۔


