نئی دہلی (لارڈ میڈیا) بھارت کے مختلف تعلیمی اداروں میں طلبہ کے احتجاج اور پولیس سے جھڑپوں نے تعلیمی ماحول میں سیاسی مداخلت پر بحث کو تیز کردیا ہے۔ کولکتہ کے ستیہ جیت رے فلم اینڈ ٹیلی ویژن انسٹی ٹیوٹ میں آر ایس ایس کے حملے میں 8 طلبہ شدید زخمی ہوئے جبکہ حملہ آوروں نے خود کو بی جے پی اور آر ایس ایس سے وابستہ ظاہر کیا۔
طلبہ نے الزام عائد کیا کہ حملہ آوروں نے انہیں ڈنڈوں سے تشدد کا نشانہ بنایا اور بعض طالبات کے کپڑے اتارنے کی کوشش بھی کی گئی۔ پولیس کی آمد کے باوجود کشیدگی برقرار رہی۔ واقعے کے پس منظر میں ایک تنظیم کا اجلاس تھا جسے طلبہ نے آر ایس ایس سے وابستہ قرار دیا۔
طلبہ کا کہنا تھا کہ سیاسی سرگرمی کے لیے ادارے کے مرکزی آڈیٹوریم کا استعمال ان کی تعلیمی سرگرمیوں میں رکاوٹ بن رہا تھا اور انہیں اس بارے میں پیشگی اطلاع نہیں دی گئی تھی۔
لولی پروفیشنل یونیورسٹی میں ایک طالبہ سے مبینہ زیادتی کی خبر کے بعد احتجاج شدت اختیار کرگیا۔ پولیس نے مظاہرین کی جانب سے سڑک بند رکھنے پر لاٹھی چارج کیا جبکہ احتجاج کے دوران طلبہ نے پولیس پر پتھراؤ کیا۔
ان واقعات نے بھارت کے تعلیمی اداروں میں سیاسی سرگرمیوں، طلبہ کے احتجاج اور کیمپس میں طلبہ کے تحفظ سے متعلق سوالات کو نمایاں کردیا ہے۔


