ریاض (لارڈ میڈیا): سعودی کابینہ نے آبنائے ہرمز، باب المندب، بحیرہ احمر اور خلیج عدن میں آزادانہ بحری آمدورفت کو یقینی بنانے پر زور دیا ہے۔ کابینہ کے اجلاس میں ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے مکہ دفاعی معاہدے کے سیکرٹریٹ کے قیام میں پیشرفت کا جائزہ لیا۔ اجلاس میں کہا گیا کہ آبنائے ہرمز میں 28 فروری سے پہلے کی صورتحال بحال کی جائے اور کسی قسم کی فیس یا پابندی عائد نہ ہو۔
کابینہ نے اہم آبی گزرگاہوں کو ریاستوں پر دباؤ ڈالنے، دھمکیاں دینے یا ان کے مفادات کو نقصان پہنچانے کے لیے استعمال کرنے کو مسترد کرتے ہوئے بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کی پاسداری پر زور دیا۔
سعودی کابینہ نے حوثی ملیشیا کی جانب سے سعودی عرب پر حملوں کی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی مذمت کا خیرمقدم کیا۔ اجلاس میں اسرائیلی حکام اور انتہا پسند آبادکاروں کی جانب سے مسجد اقصیٰ کی حرمت کی خلاف ورزی کی بھی شدید مذمت کی گئی۔
سعودی وزیر اطلاعات سلمان الدوسری کے مطابق کابینہ نے مؤقف دہرایا کہ خطے میں منصفانہ اور پائیدار امن دو ریاستی حل کے نفاذ سے ہی ممکن ہے۔ اجلاس میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں سعودی عرب کی شرکت کے نتائج کا بھی جائزہ لیا گیا اور عالمی امن و سلامتی میں سعودی عرب کے کردار کو سراہا گیا۔


