لاہور (لارڈ میڈیا): پنجاب کے تمام 9 تعلیمی بورڈز نے طلبہ کے رزلٹ کارڈز کو ڈیجیٹل نظام پر منتقل کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ اس اقدام کے تحت روایتی کاغذی رزلٹ کارڈز بتدریج ختم کر دیے جائیں گے۔ نئے نظام کے تحت طلبہ اپنے نتائج کے فوراً بعد گھر بیٹھے آن لائن رزلٹ کارڈ ڈاؤن لوڈ اور پرنٹ کر سکیں گے۔ اس مقصد کے لیے خصوصی ڈیجیٹل پورٹل تیار کیا جا رہا ہے جہاں ریکارڈ محفوظ اور آسانی سے دستیاب ہوگا۔
حکام کے مطابق اس منصوبے کا آغاز مرحلہ وار کیا جائے گا۔ پہلے مرحلے میں نویں جماعت اور فرسٹ ایئر کے طلبہ کو ڈیجیٹل رزلٹ کارڈ جاری کیے جائیں گے، جبکہ بعد میں دسویں جماعت اور سیکنڈ ایئر کے طلبہ کو بھی اس نظام میں شامل کر لیا جائے گا۔
نئے رزلٹ کارڈز میں کیو آر کوڈ اور دیگر حفاظتی خصوصیات شامل ہوں گی، جن کی مدد سے کالجز، جامعات، ملازمت دینے والے ادارے اور دیگر تنظیمیں فوری طور پر دستاویزات کی تصدیق کر سکیں گی۔
اہم بات یہ ہے کہ ڈیجیٹل رزلٹ کارڈ کو وہی قانونی اور سرکاری حیثیت حاصل ہوگی جو روایتی رزلٹ کارڈ کو حاصل تھی۔ طلبہ اسے داخلوں، ملازمتوں، اسکالرشپس، مساوی سند (Equivalence) اور دیگر سرکاری امور میں استعمال کر سکیں گے۔
تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے نہ صرف وقت اور اخراجات کی بچت ہوگی بلکہ طلبہ کو رزلٹ کارڈ حاصل کرنے کے لیے بورڈ دفاتر کے چکر بھی نہیں لگانا پڑیں گے، جس سے تعلیمی نظام مزید جدید اور آسان بن سکے گا۔


