برلن (لارڈ میڈیا) جرمنی کی معروف شپنگ کمپنی ہاپگ لائیڈ نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع کے باعث آبنائے ہرمز کی بندش سے رواں سال کی دوسری سہ ماہی میں کمپنی کو تقریباً 600 ملین ڈالر کا مالی نقصان اٹھانا پڑا۔ کمپنی کے مالی نتائج کے مطابق اپریل سے جون کے دوران خالص منافع کم ہو کر 83 ملین ڈالر رہ گیا، جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے میں 306 ملین ڈالر کا خالص منافع حاصل کیا گیا تھا۔
کمپنی نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی جنگ اور آبنائے ہرمز کی بندش کے نتیجے میں بحری جہازوں کو اپنے روٹس تبدیل کرنا پڑے جس سے شپنگ کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوا۔ ہاپگ لائیڈ کو ایندھن، انشورنس، اسٹوریج، بحری راستوں کی تبدیلی اور اندرون ملک نقل و حمل سمیت مختلف اضافی اخراجات برداشت کرنا پڑے۔
کمپنی کے لائنر شپنگ شعبے کا آپریٹنگ منافع بھی کم ہو کر 153 ملین ڈالر رہ گیا، جو گزشتہ سال کی دوسری سہ ماہی میں 167 ملین ڈالر تھا۔ تاہم ایشیا سے مضبوط برآمدات اور امریکا میں بہتر طلب نے کچھ مالی نقصانات کو کم کرنے میں مدد دی۔
آبنائے ہرمز عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے اہم سمندری گزرگاہ ہے۔ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث اس راستے کی بندش سے نہ صرف تیل اور دیگر اشیا کی ترسیل متاثر ہوتی ہے بلکہ عالمی شپنگ کمپنیوں کو متبادل راستے اختیار کرنا پڑتے ہیں، جس سے وقت اور اخراجات دونوں میں اضافہ ہوتا ہے۔
ہاپگ لائیڈ کے تازہ مالی اعداد و شمار سے واضح ہوتا ہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش کا اثر صرف خطے کی تجارت تک محدود نہیں بلکہ عالمی شپنگ انڈسٹری کی آمدنی اور اخراجات پر بھی پڑا ہے۔


