چین کے شمالی صوبے ہیبے کے شہر کانگ ژو میں 12واں چائنہ کانگ ژو انٹرنیشنل وُوشو مقابلہ اتوار کے روز اختتام پذیر ہو گیا۔
اس مقابلے میں 40 ممالک اور خطوں سے تعلق رکھنے والے 4350 سے زائد مارشل آرٹس کے کھلاڑیوں اور کوچز نے شرکت کی جس نے اس مقابلے کو ثقافتی تبادلے کے ایک عالمی پلیٹ فارم میں تبدیل کر دیا۔
روس کے اینٹن آندریف بھی مقابلے کےشرکا میں شامل تھے۔ وہ گزشتہ 16 برس سے کانگ ژو میں وُوشو سیکھ رہے ہیں۔
ساؤنڈ بائٹ 1 (انگریزی): اینٹن آندریف، روسی کھلاڑی
’’وُوشو صرف مارشل آرٹس کا نام نہیں۔ ہمیں ہر سال اپنے چینی دوستوں اور بھائیوں کے ساتھ مل کر تربیت لینے میں بہت خوشی ہوتی ہے۔ اگرچہ ہمارا تعلق تو مختلف ممالک سے ہے لیکن وُوشو نے ہمیں ایک دوسرے کے قریب کر دیاہے۔‘‘
آندریف روس میں اپنے دوستوں کو بھی وُوشو سے متعارف کراتے رہے ہیں۔
رواں برس وہ اس مقابلے میں شرکت کے لئے مارشل آرٹس کے 50 سے زائد روسی شائقین کے ہمراہ کانگ ژو آئے۔
ساؤنڈ بائٹ 2 (انگریزی): آندرے ایگیف، روسی کھلاڑی
’’مجھے چینی وُوشو بہت پسند ہے کیونکہ یہ ایک ایسا ہمہ گیر کھیل ہے جس میں مجھے روایتی ہتھیاروں کی مختلف اقسام اور روایتی مکے بازی کے مختلف انداز سیکھنے کا موقع ملتا ہے۔ یہ اب تک کا سب سے بہترین کھیل ہے جس کا میں نے تجربہ کیا ہے۔‘‘
آندریف کے استاد لیو لیان جون روایتی مارشل آرٹس کے مقامی وارث ہیں۔ انہوں نے دنیا بھر کے لوگوں کے ساتھ وُوشو کے تبادلے کو فروغ دینے میں کئی برس لگائے۔
ساؤنڈ بائٹ 3 (چینی): لیو لیان جون، وُوشو کے مقامی وارث
’’بہت سے غیر ملکی یہاں وُوشو سیکھنے آتے ہیں۔ وُوشو کی کوئی سرحد نہیں۔ جنگی تکنیکوں اور مختلف معمولات کی مشق کے ذریعے وہ چینی وُوشو کی گہری اور وسیع ثقافت کو گہرائی سمجھ سکتے ہیں۔‘‘
گزشتہ کئی برسوں کے دوران کانگ ژو نے مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے وُوشو ماہرین کو ایک دوسرے سے ملانے کے لئے متعدد پلیٹ فارم تیار کئے ہیں۔
آندریف جیسے لوگوں کے لئے وُوشو سرحد پار لوگوں اور ثقافتوں کو ایک دوسرے سے جوڑنے والا پل بن گیا ہے۔
کانگ ژو، چین سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ


