پشاور (لارڈ میڈیا): خیبر پختونخوا حکومت نے غیر قانونی مقیم افغان باشندوں کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق 13 ہزار افغان باشندوں کی شناخت کے لیے کارروائی کی جائے گی اور غیر ملکیوں کی بے نامی جائیداد ضبط کرنے کا ہوم ورک تیار کیا گیا ہے۔
حکومت نے جعلی پاکستانی شناختی کارڈ رکھنے والوں کے خلاف بھی ایکشن کا اعلان کیا ہے اور ان افغانوں کی نشاندہی کی جا رہی ہے جو غیر قانونی طور پر سہولت حاصل کر رہے ہیں۔ ایک لاکھ سے زائد مشتبہ افراد کی جانچ کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
مزید براں، افغانوں کو کرائے پر رہائش دینے والوں کے خلاف بھی کارروائی متوقع ہے اور صوبہ بھر کے ڈپٹی کمشنرز کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔ افغان مہاجرین کے ریکارڈ کی دوبارہ جانچ بھی شروع کر دی گئی ہے تاکہ غیر قانونی کاروبار میں ملوث افراد کو پکڑا جا سکے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ سہولت کاروں کے خلاف بھی سخت کارروائی کی جائے گی۔ بارڈر مینجمنٹ اور قانون نافذ کرنے والے ادارے متحرک ہو چکے ہیں اور جعلی دستاویزات پر پاکستانی شناخت حاصل کرنے والوں کے خلاف گھیرا تنگ کیا جا رہا ہے جبکہ افغان مہاجرین سے متعلق نئی کارروائیوں کا آغاز متوقع ہے۔


