لندن (لارڈ میڈیا): رولیکس نے اس سال دوسری بار اپنی سونے کی گھڑیوں کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ اضافہ سونے کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور امیر خریداروں کی مضبوط طلب کا نتیجہ ہے۔
رولیکس نے دنیا بھر میں اپنی سونے کی گھڑیوں کی قیمتوں میں اوسطاً پانچ فیصد اضافہ کیا ہے۔ یہ اضافہ برطانیہ، ہانگ کانگ اور امریکہ کی بڑی مارکیٹوں میں لاگو ہو چکا ہے۔
جنوری میں بھی رولیکس نے قیمتوں میں اضافہ کیا تھا، لیکن وہ مخصوص ممالک اور ماڈلز کے لیے تھا۔ اس بار تمام سونے کی گھڑیوں پر اضافہ ہوا ہے۔
ماہرین کے مطابق امیر ترین افراد مہنگی گھڑیاں بہترین سرمایہ کاری سمجھتے ہیں۔ اس وجہ سے قیمتوں میں اضافے کے باوجود رولیکس اور دیگر برانڈز کی فروخت متاثر نہیں ہو رہی۔
کارٹیئر نے بھی پچھلے ماہ اپنی سونے کی گھڑیوں کی قیمتوں میں دس فیصد اضافہ کیا تھا۔ سونے کی بڑھتی قیمتوں اور کرنسی کے اتار چڑھاؤ کو اس کی وجہ بتایا گیا ہے۔
رولیکس نے قیمتوں میں اضافہ تو کر دیا ہے لیکن اس حوالے سے کوئی بھی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا۔
سونے کی قیمتیں 2024 کے بعد سے دوگنی ہو چکی ہیں، جس کی وجہ سے سونے کی گھڑیوں کی قیمتوں میں اوسطاً 4 سے 6 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
لگژری گھڑیوں پر تحقیق کرنے والے ادارے کے بانی زہیر گیدری نے کہا کہ کمپنیاں امیر گاہکوں کو قیمتی دھاتوں میں سرمایہ کاری کی طرف راغب کر رہی ہیں۔
سوئٹزرلینڈ سے مہنگی گھڑیوں کی برآمدات میں بھی اضافہ ہوا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دنیا میں مہنگی گھڑیوں کا شوق بڑھتا جا رہا ہے۔


