بیروت (لارڈ میڈیا) : اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے دعویٰ کیا ہے کہ جنوبی لبنان کے بعض مسیحی دیہات اسرائیل کے ساتھ الحاق کی خواہش رکھتے ہیں تاکہ حزب اللہ سے محفوظ رہ سکیں، تاہم ان دیہات نے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے۔ ان دیہات نے واضح کیا ہے کہ انہوں نے کبھی اسرائیل میں شمولیت کی درخواست نہیں دی اور وہ اپنی لبنانی شناخت پر قائم ہیں۔
نیتن یاہو نے امریکی نشریاتی ادارے فاکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ جنوبی لبنان کے کچھ مسیحی دیہات نے اسرائیل میں شامل ہونے کی خواہش ظاہر کی ہے کیونکہ وہ حزب اللہ کی مخالفت کرتے ہیں اور اسرائیل انہیں تحفظ فراہم کرتا ہے۔ لیکن انہوں نے دیہات کے نام یا مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
جنوبی لبنان کے مسیحی دیہات نے جمعہ کو ان خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ کسی فرد یا ادارے کو ایسا فیصلہ کرنے کا اختیار نہیں ہے اور وہ اپنی سرزمین اور لبنانی پرچم کے وفادار رہیں گے۔
لبنان کے صدر جوزف عون نے اسرائیل کے ساتھ براہ راست مذاکرات کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت لبنان کی ایک انچ زمین بھی اسرائیل کو نہیں دے گی۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ ان کا بیان انہی دیہات کے حوالے سے تھا یا اسرائیل کے قائم کردہ سیکیورٹی زون کے بارے میں۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیل نے جنوبی لبنان کے بعض علاقوں پر قبضہ کر کے سیکیورٹی زون قائم کیا ہے اور وقفے وقفے سے فضائی و زمینی حملے کرتا رہا ہے۔ حالیہ جنگ میں تقریباً 4 ہزار 300 لبنانی ہلاک ہوئے اور 12 لاکھ افراد نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔
نیتن یاہو نے ایک سرکاری تقریب میں کہا کہ اسرائیلی فوج جنوبی لبنان میں موجود رہے گی اور اس وقت تک شمالی اسرائیل کے شہریوں کے تحفظ کے لیے ضروری کارروائیاں جاری رکھے گی۔ اسرائیلی فوج کے سربراہ جنرل ایال زامیر نے بھی جنوبی لبنان کے بیو فورٹ کیسل کا دورہ کرتے ہوئے خطرات کے خاتمے کے عزم کا اظہار کیا۔


