تہران (لارڈ میڈیا): امریکی اخبار کے مطابق، ایران نے جون کے وسط میں اسلام آباد ایم او یو پر دستخط کے بعد سے ایک بڑی جنگ کی تیاریوں میں تیزی لائی ہے۔ وال اسٹریٹ جنرل کی رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب کو ملکی فوج کا مزید کنٹرول دیا گیا اور اہم عہدوں پر تجربہ کار فوجی افسران تعینات کیے گئے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ ایرانی قیادت نے میزائلوں اور ڈرونز کی پیداوار تیز کر دی ہے اور آبنائے ہرمز پر گرفت مضبوط کرنے کے لیے بحری جہازوں پر حملے کیے۔ عرب انٹیلی جنس حکام کے مطابق ایران کی قیادت جنگ کو وسعت دینے کی حکمت عملی پر کام کر رہی ہے۔
کویتی حکومت سمیت خلیجی ممالک میں تشویش پائی جاتی ہے کیونکہ ایرانی رہنما دشمن کی سرزمین پر جارحانہ کارروائیوں کی بات کر رہے ہیں۔ ایرانی تجزیہ کار محمد حسن سنگتراش کا کہنا ہے کہ اصل جنگ ابھی شروع نہیں ہوئی ہے۔
اسرائیلی حکام کو تشویش ہے کہ ایران اپنے انفراسٹرکچر کی تیزی سے تعمیرِ نو کر رہا ہے اور امریکی اڈوں کو نشانہ بناتے ہوئے بحری جہازوں اور خلیج میں توانائی کے انفراسٹرکچر کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق ایران دوہری پالیسی پر عمل پیرا ہے، جہاں ایک طرف امن معاہدے کی کوششیں جاری ہیں، وہیں دوسری جانب ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سکیورٹی اداروں کو بڑے تصادم کے لیے تیار کر رہے ہیں۔
پاسداران انقلاب نے عراق، یمن اور لبنان میں مشیر بھیجے ہیں تاکہ اتحادیوں کے ساتھ مل کر حملوں کی منصوبہ بندی کی جا سکے۔ ایرانی حکام نے خلیجی ریاستوں کو دھمکی دی ہے کہ اگر امریکا نے ایران کی توانائی کی تنصیبات کو نشانہ بنایا تو وہ بھی جوابی کارروائی کریں گے۔


