ہومUncategorizedٹیکساس مظاہرے میں فائرنگ، آٹھ افراد کو قید کی سزا

ٹیکساس مظاہرے میں فائرنگ، آٹھ افراد کو قید کی سزا

واشنگٹن (لارڈ میڈیا): ٹیکساس کے ایک امیگریشن حراستی مرکز کے باہر مظاہرے کے دوران فائرنگ اور پولیس افسر کو زخمی کرنے پر سابق میرین ریزروسٹ بینجمن سانگ سمیت آٹھ افراد کو قید کی سزائیں سنائی گئی ہیں۔ سانگ کو 100 سال قید کی سزا دی گئی، جبکہ دیگر سات ملزمان کو 30 سے 70 سال کے درمیان قید کی سزائیں ملیں۔

استغاثہ نے دعویٰ کیا کہ یہ واقعہ دہشت گردی کے زمرے میں آتا ہے اور ملزمان کا تعلق بائیں بازو کی تنظیم اینٹی فا سے تھا، جسے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے داخلی دہشت گرد تنظیم قرار دیا تھا۔ دوسری جانب دفاعی وکلا نے اس تعلق کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ملزمان سیاسی احتجاج میں شریک تھے۔

ملزمان کے اہل خانہ نے سخت سزاؤں پر شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ آٹم ہِل کی شریک حیات لیڈیا کوزا نے کہا کہ حکومت صرف احتجاج میں شرکت کے باعث ان کی زندگی چھیننا چاہتی ہے، حالانکہ واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

جج ریڈ او کونر نے کہا کہ یہ احتجاج نہیں بلکہ جمہوریت پر حملہ تھا، اور اس قسم کے واقعات کی روک تھام کے لیے سخت سزائیں ضروری ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کے اثرات امریکا میں احتجاج کے حق اور آزادی اظہار پر مرتب ہو سکتے ہیں۔

محکمہ انصاف کے مطابق، یہ پہلا مقدمہ ہے جس میں اینٹی فا سے وابستہ قرار دیے گئے افراد کو سزائیں سنائی گئی ہیں۔ استغاثہ نے کہا کہ مظاہرین کے پاس اسلحہ اور حفاظتی لباس کے ساتھ آنا ان کے غیرپرامن ارادوں کا ثبوت ہے۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں