پشاور (لارڈ میڈیا): انسٹیٹیوٹ آف ریجنل اسٹڈیز کے چیئرمین ڈاکٹر محمد اقبال خلیل نے پشاور میں مہنگائی کے اثرات پر سروے رپورٹ پیش کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ 89 فیصد خاندان قرض پر زندگی گزار رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بڑھتی مہنگائی نے شہریوں کے گھریلو بجٹ، خوراک، تعلیم، علاج اور آمدورفت کے اخراجات کو شدید متاثر کیا ہے۔
سروے کے مطابق پشاور میں 462 گھرانوں کا جائزہ لیا گیا جس میں مہنگائی کے باعث 35 سے 40 فیصد تک اضافہ دیکھا گیا ہے۔ ڈاکٹر اقبال نے کہا کہ مہنگائی پورے پاکستان کا مسئلہ ہے اور پشاور اس سے شدید متاثر ہوا ہے۔
کم آمدنی والے علاقوں کے 48.7 فیصد گھرانوں نے خود کو مہنگائی سے شدید متاثر قرار دیا جبکہ 67.3 فیصد کا کہنا ہے کہ آمدن میں اضافہ ہوا لیکن اخراجات اس سے بھی زیادہ بڑھ گئے۔
ڈاکٹر اقبال نے بتایا کہ 93 فیصد گھرانوں کے بجلی، گیس اور تیل کے اخراجات میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ 86.4 فیصد نے کہا کہ خوراک کے اخراجات بھی بڑھ گئے ہیں۔
سروے میں بتایا گیا کہ 79.4 فیصد گھرانوں کو علاج کے اخراجات برداشت کرنے میں مشکلات ہیں، جبکہ 59.1 فیصد کو اسکول فیس کی ادائیگی میں تاخیر کا سامنا ہے۔
پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے 84.6 فیصد گھرانوں نے ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں اضافہ محسوس کیا ہے، اور فروری 2026 سے ان قیمتوں میں 50 فیصد اضافہ ہوا ہے۔


