نئی دہلی (لارڈ میڈیا): بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے ہندوتوا نظریے کے خلاف اندرونی بغاوت کی خبریں سامنے آ رہی ہیں، جس سے ہندو انتہا پسند تنظیموں کا مکروہ چہرہ دنیا پر عیاں ہو گیا ہے۔ ہندوتوا انتہا پسند تنظیموں کی سرگرمیاں بھارت سمیت پڑوسی ممالک کے امن کے لیے خطرہ بن گئی ہیں۔
بھارتی جریدے کے مطابق سابق آر ایس ایس رہنما یشونت سہدیَو شندے نے آر ایس ایس، وشو ہندو پریشد اور بجرنگ دل کو دہشتگرد تنظیمیں قرار دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستان میں ہونے والی شرپسند کارروائیوں کا تربیتی نیٹ ورک آر ایس ایس کی قیادت میں چلایا جاتا ہے۔
بھارتی سیاسی تجزیہ کار شمس الاسلام کا کہنا ہے کہ آر ایس ایس کی پرتشدد سرگرمیاں مسلمانوں کو نشانہ بنانے کی طویل تاریخ رکھتی ہیں۔ سی بی آئی کے شواہد کے باوجود بی جے پی نواز عدالتوں میں ہندوتوا تنظیموں کے مقدمات بریت پر ختم ہو جاتے ہیں۔
سیاسی تجزیہ کار راجو پارولیکر کے مطابق اسرائیل سے گٹھ جوڑ کے باعث آر ایس ایس دیگر دہشت گرد تنظیموں سے زیادہ خطرناک ہو چکی ہے۔


