تہران (لارڈ میڈیا): ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ تہران نے امریکا کے ساتھ جنگ بندی کے حوالے سے اپنے وعدے کی پاسداری کی ہے جبکہ امریکا خلاف ورزی کر رہا ہے۔ عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ امریکا کے نام نہاد وزیر خزانہ مفاہمتی یادداشت کی شق 9 کی خلاف ورزی کر رہے ہیں جس کے مطابق امریکا خطے میں مزید فوجی دستے تعینات نہیں کرے گا۔
عباس عراقچی نے مزید کہا کہ معاہدے پر عملدرآمد یکطرفہ نہیں ہو سکتا اور ایران نے اب تک اپنے تمام وعدے پورے کیے ہیں جبکہ امریکی اقدامات معاہدے اور طے شدہ وعدوں کے منافی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ پیشرفت اسی صورت ممکن ہے جب دونوں فریق یکساں طور پر معاہدے کی پابندی کریں۔
ایرانی وزیر خارجہ آج عمان کا دورہ کریں گے جہاں وہ خطے کی تازہ صورتحال، بالخصوص آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی صورتِ حال پر اعلیٰ سطح کی بات چیت کریں گے۔ ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق اس دورے کے دوران دونوں ممالک کے حکام علاقائی سلامتی، بحری گزرگاہوں کی صورتحال اور آبنائے ہرمز میں پیش آنے والی حالیہ پیش رفت پر تفصیلی مشاورت کریں گے۔
آبنائے ہرمز عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل کے لئے نہایت اہم سمندری راستہ تصور کیا جاتا ہے، اس لئے وہاں کی صورتحال پر عالمی سطح پر بھی گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔ ایران اور عمان کے درمیان ہونے والی یہ ملاقات خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں اہم قرار دی جا رہی ہے۔


