ہومانٹرنیشنلمسجد اقصیٰ کی حیثیت میں تبدیلی کے دعووں کی تردید، اسرائیلی...

مسجد اقصیٰ کی حیثیت میں تبدیلی کے دعووں کی تردید، اسرائیلی وزیراعظم

یروشلم (لارڈ میڈیا): اسرائیل کے بعض سخت گیر حکومتی عہدیداروں اور دائیں بازو کے رہنماؤں پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ مسجد اقصیٰ کی تاریخی حیثیت کو بدلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق کچھ حلقے مسجد اقصیٰ کو ‘کثیر المذاہب عبادت گاہ’ قرار دینے کی تجویز پر کام کر رہے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام مسجد کے اردن کے زیر نگرانی اسلامی وقف کے انتظام کے خلاف ہوگا۔

موجودہ اسٹیٹس کو کے مطابق غیر مسلم افراد مسجد اقصیٰ کا دورہ کر سکتے ہیں، لیکن وہاں مذہبی عبادات کی اجازت نہیں ہے۔ بعض اسرائیلی سیاست دان مسجد اقصیٰ میں یہودی عبادات کے حامی ہیں۔ دائیں بازو کے رہنما موشے فیگلن نے حال ہی میں مسجد کے احاطے میں جا کر نئی عبادت گاہ تعمیر کرنے کی بات کہی ہے۔

اسرائیلی قومی سلامتی کے وزیر اتمار بن گویر کے متعدد دوروں پر فلسطینی اور عرب ممالک نے اعتراض کیا ہے۔ ویڈیوز میں بن گویر کو اسرائیلی جھنڈا لہراتے اور مسجد پر اسرائیلی حق ملکیت کے نعرے لگاتے دیکھا گیا ہے۔

اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے مسجد اقصیٰ کی حیثیت میں تبدیلی کے دعووں کی تردید کی ہے، تاہم فلسطینی اور اردن نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اسلامی وقف کونسل کے نائب سربراہ ڈاکٹر مصطفیٰ ابو سوئے نے خبردار کیا ہے کہ ایسی کوششیں خطے کے امن کو خطرے میں ڈال سکتی ہیں۔

مقبوضہ مغربی کنارے کے دو فلسطینی دیہات میں نامعلوم اسرائیلی آبادکاروں نے مساجد کو آگ لگا دی۔ رام اللہ کے قریب مسجد میں وضو خانے اور دیگر حصوں کو نقصان پہنچا اور دیواروں پر عبرانی زبان میں نعرے لکھے گئے۔ اسرائیلی فوج نے تصدیق کی کہ مشتبہ افراد فرار ہو چکے تھے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں کشیدگی بڑھ رہی ہے اور مسجد اقصیٰ کی حیثیت پر بحث عالمی توجہ حاصل کر رہی ہے۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں