نیروبی (شِنہوا) کینیا نے چینی ڈریگن بوٹ فیسٹیول کے سلسلے میں ثقافتی ورثے کے میلے کا انعقاد کیا جس میں چین اور افریقہ کے مابین دوستی اور تعاون مضبوط بنانے میں ثقافتی تبادلے کے کردار کو اجاگر کیا گیا۔
مشرقی افریقہ میں چائنہ جنرل چیمبر آف کامرس کے زیر اہتمام اس تقریب میں اعلیٰ حکومتی نمائندوں، سفارتی کور کے ارکان، کاروباری رہنماؤں اور ثقافت کے دلدادہ افراد نے شرکت کی۔ تاکہ 19 جون کو منائے جانے والے چین کے اہم ترین روایتی تہواروں میں سے ایک کا جشن منایا جا سکے۔
اس جشن میں چاول کے روایتی پکوان زونگزی سے تواضع، ثقافتی مظاہرے اور میلے کی تاریخی اہمیت پر مبنی معلوماتی نشستیں شامل تھیں۔
کینیا میں چین کی سفیر گوا ہائی یان نے کہا کہ یہ تہوار دوستی اور تعاون مضبوط بنانے میں معاون ہو گا جس سے دونوں ملکوں کے عوام کو مزید بھرپور فوائد حاصل ہوں گے۔
انہوں نے تہوار کی ثقافتی اہمیت کے بارے میں وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ اس کی ابتدا بیماریوں اور بری روحوں سے بچاؤ کے ایک روایتی موقع کے طور پر ہوئی تھی۔
کینیا کی وزارت سیاحت و جنگلی حیات میں تحقیق و جدت کے ڈپٹی ڈائریکٹر کاواکا وٹائی موکونی نے کہا کہ یہ جشن ایک دوسرے کے خیالات جاننے، تجربات کے تبادلے سمیت سیکھنے کے لئے ایک اہم موقع فراہم کرتا ہے کہ قومیں اپنے ثقافتی ورثے کی کیسے حفاظت کرتی ہیں اور اسے فروغ دے کر کیسے فائدہ اٹھا سکتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ تقریب خاص طور پر اس لئے اہم تھی کہ یہ "چین-افریقہ عوامی سطح پر تبادلوں کا سال 2026” کے ساتھ مطابقت رکھتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کینیا ورثے کے تحفظ اور انتظام میں چین کے تجربے سے سیکھ سکتا ہے کیونکہ وہ اپنے ثقافتی وسائل کی حفاظت اور فروغ کے لئے کوشاں ہے۔
مشرقی افریقہ میں چائنہ جنرل چیمبر آف کامرس کے چیئرمین چھن من شوے نے کہا کہ ڈریگن بوٹ فیسٹیول جیسی ثقافتی تقریبات چین اور کینیا کے مابین تعلقات مستحکم کرنے میں مدد دیتی ہیں کیونکہ یہ لوگوں کو ایک دوسرے کی روایات اور اقدار سے سیکھنے کے مواقع فراہم کرتی ہیں۔


