سطح سمندر سے اوسطاً چار ہزار میٹر سے زیادہ بلندی پر واقع چین کے جنوب مغربی خودمختار علاقے شی زانگ کے چراگاہی علاقوں میں ایک طویل عرصے سے زندگی سخت قدرتی حالات کے زیرِ اثر رہی ہے۔
نسل در نسل مویشی پالنے والے مقامی چرواہوں کے لئے سردیوں میں گرم پانی سے نہانا اور سرد موسم کے دوران اپنے گھروں کو گرم رکھنا روزمرہ زندگی کا ایک بڑا چیلنج رہا ہے۔
تاہم حالیہ برسوں میں بنیادی ڈھانچے میں بہتری اور صاف توانائی کے منصوبے سطح مرتفع پر بسنے والی مختلف آبادیوں کی زندگی میں خاموش مگر نمایاں تبدیلیوں کا باعث بنے ہیں۔
نگاری پریفیکچر کی چُوچھن کاؤنٹی میں مقامی حکام نے قدرتی گرم چشموں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے دیہی غسل خانے تعمیر کئے۔ اس طرح مقامی باشندوں کو اپنے آبائی علاقوں سے باہر جائے بغیر گرم پانی سے نہانے کی سہولت مل گئی ہے۔
ساؤنڈ بائٹ 1 (تبتی): گارما دورجے، رہائشی، تسا گاؤں، چُوچھن کاؤنٹی
’’ماضی میں مجھے صرف نہانے کے لئے کاؤنٹی کے مرکزی شہر تک طویل سفر کرنا پڑتا تھا۔ اب ہمارے گاؤں میں ہی گرم چشمے کا غسل خانہ موجود ہے جس سے ہماری زندگی بہت آسان ہو گئی ہے۔‘‘
ساؤنڈ بائٹ 2 (تبتی): سونم دامپا، رہائشی، تسا گاؤں، چُوچھن کاؤنٹی
"ہمارے گاؤں میں زندگی کے حالات میں بے حد بہتری آئی ہے۔ پانی اور بجلی کی فراہمی میں پہلے سے کہیں زیادہ بہتری آ گئی ہے، سڑکیں بھی بہتر ہو گئی ہیں اور آج ہماری زندگی واقعی خوشحال ہے۔”
نہانے کی اس سہولت سے مقامی لوگوں کے لے نئے مواقع بھی پیدا ہوئے ہیں۔
یہ سہولت مجموعی دیہی معیشت کو مضبوط بناتے ہوئے مقامی سطح پر روزگار کے مواقع پیدا کر رہی ہے اور مقامی لوگوں کی آمدنی میں اضافے کا بھی باعث بن رہی ہے۔
ساؤنڈ بائٹ 3 (چینی): تاشی نامگیال، گرم پانی کے غسل خانے کے منتظم
"ہمارا گرم چشمے کا غسل خانہ مجموعی دیہی معیشت کے فروغ میں مدد دے رہا ہے۔ مقامی لوگوں کو ان کے گھروں کے قریب روزگار مل رہا ہے اور ان کی آمدنی بھی بڑھ رہی ہے۔”
غسل خانوں کی سہولت کے ساتھ ساتھ شی زانگ کے بلند سطح مرتفع کے علاقوں میں سردیوں کے دوران گھروں کو گرم رکھنے کے نظام میں بھی نمایاں تبدیلی آ رہی ہے۔
ناگچو کا شمار سطح مرتفع کے سرد ترین علاقوں میں ہوتا ہے۔ اب وہاں بھی شمسی، ہوائی اور ارضی حرارتی توانائی رفتہ رفتہ کوئلے پر مبنی روایتی حرارتی نظام کی جگہ لے رہی ہیں۔
ساؤنڈ بائٹ 4 (چینی): سیرنگ یانگ زوم، رہائشی، تونگ لونگ گاؤں، ناگچو
"پہلے پورا خاندان ہی ایک ہی کمرے میں رہتا تھا کیونکہ چولہا صرف اسی ایک کمرے کو گرم رکھتا تھا۔ اب حکومت نے صاف توانائی سے چلنے والے ریڈی ایٹر نصب کر دئیے ہیں۔ یہ نہ صرف صاف ستھرے اور کم خرچ ہیں بلکہ پورے گھر کو آسانی سے گرم بھی رکھتے ہیں۔”
سال 2025 کے اختتام تک شی زانگ میں مرکزی حرارتی نظام 30 سے زائد ضلعی مراکز، تقریباً 180 قصبوں اور متعدد زرعی و چراگاہی آبادیوں تک پہنچ چکا تھا۔
مرکزی حرارتی نظام کا مجموعی رقبہ 3 کروڑ 40 لاکھ مربع میٹر تک پہنچ گیا ہے جس سے تقریباً 9 لاکھ افراد مستفید ہو رہے ہیں۔
لہاسا، چین سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ


