ہومانٹرنیشنلجاپان کے شہری گروپوں اور رہائشیوں کا امریکہ اور جاپان کے بڑے...

جاپان کے شہری گروپوں اور رہائشیوں کا امریکہ اور جاپان کے بڑے پیمانے کے فوجی مشقوں کے خلاف احتجاج

ٹوکیو (شِنہوا) جاپان میں سول سوسائٹی کے گروپوں اور مقامی رہائشیوں نے بڑے پیمانے پر ہونے والی امریکہ-جاپان مشترکہ فوجی مشقوں کے خلاف شدید مخالفت کا اظہار کیا ہے۔ یہ مشقیں جنوب مغربی جاپان کے خطے کیوشو اور اوکیناوا پریفیکچر میں شروع ہوئی ہیں۔

مظاہرین نے ‘ریزولوٹ ڈریگن’ نامی ان فیلڈ مشقوں کو فوری طور پر معطل کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ اس سے علاقائی تناؤ میں اضافہ ہو سکتا ہے اور مقامی آبادیوں کے لئے سکیورٹی کے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔

کوماموتو پریفیکچر کے قصبے یاماتو کے رہائشیوں نے حال ہی میں متعلقہ حکام کو ایک احتجاجی بیان جمع کرایا ہے، جس میں ان مشقوں کے حصے کے طور پر امریکی فوجی مال بردار طیاروں کی کم بلندی پر تربیتی پروازوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ مظاہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ مشترکہ مشقیں علاقائی صورتحال کو مزید غیر مستحکم کر سکتی ہیں اور پڑوسی ممالک کے ساتھ جاپان کے تعلقات کو خراب کر سکتی ہیں۔

رواں ماہ کے آغاز میں اوکیناوا پریفیکچر کے شہر ایشیگاکی میں سول سوسائٹی کے ایک گروپ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان مشقوں کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا تھا اور شہریوں کی روزمرہ زندگی اور ان کے احساس تحفظ پر پڑنے والے ممکنہ منفی اثرات پر کڑی تنقید کی تھی۔ اسی طرح کے احتجاج اور پٹیشنز میاکو جزیرے اور اوکیناوا کے دیگر حصوں میں بھی مقامی شہریوں اور گروپس کی جانب سے منظم کی گئی ہیں۔

مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ‘ریزولوٹ ڈریگن’ مشقوں میں جاپان گراؤنڈ سیلف ڈیفنس فورس اور امریکی میرین کور کے تقریباً 9 ہزار 600 اہلکار حصہ لے رہے ہیں۔ یہ مشقیں، جن کا بنیادی مرکز نام نہاد "دور دراز جزائر کا دفاع” ہے، 30 جون تک جاری رہنے کا شیڈول ہے۔

حالیہ برسوں میں جاپان اور امریکہ کے درمیان مشترکہ فوجی مشقیں پورے جاپان میں کثرت سے منعقد کی جا رہی ہیں، جس کے باعث مقامی رہائشیوں کی جانب سے مسلسل مخالفت اور شدید تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں