ہومانٹرنیشنلچینی ہٹ فلم ”ڈیئر یو“ کا برطانیہ میں پریمیئر، شائقین کے دل...

چینی ہٹ فلم ”ڈیئر یو“ کا برطانیہ میں پریمیئر، شائقین کے دل جیت لئے

لندن (شِنہوا) چین کی مقبول ترین فلم ”ڈیئر یو“ کی برطانیہ میں پہلی نمائش ہفتے کے روز وسطی لندن میں منعقد ہوئی، جبکہ یہ فلم 26 جون کو برطانیہ اور آئرلینڈ کے سینما گھروں میں ریلیز کی جائے گی۔

کم بجٹ میں بننے والی یہ فلم جس کی زیادہ تر شوٹنگ چھاؤشان (تیوچھیو) زبان میں کی گئی ہے، رواں سال چین میں غیر متوقع طور پر باکس آفس پر بے حد کامیاب ثابت ہوئی۔

فلم کی کہانی قرضوں تلے دبے ایک نوجوان کے گرد گھومتی ہے جو اپنے دادا کی تلاش میں چین کے جنوبی علاقے چھاؤشان سے، جو نان یانگ ہجرت کے اہم مراکز میں سے ایک ہے، تھائی لینڈ جاتا ہے اور وہاں اسے اپنے خاندان کا ایک ایسا راز معلوم ہوتا ہے جس کا تعلق ’’چھیاؤپی‘‘ یعنی بیرون ملک مقیم چینی باشندوں کی جانب سے اپنے وطن بھیجے جانے والے خطوط اور رقوم سے ہے۔

تقریب رونمائی کے موقع پر لندن چائنہ ٹاؤن چائنیز ایسوسی ایشن کی ایگزیکٹو چیئر وومن ہوانگ پھنگ نے کہا کہ فلم میں دکھائے گئے خاندانی بندھنوں، وطن کی محبت اور باہمی رفاقت کے موضوعات سے بیرون ملک مقیم چینی انتہائی مانوس ہیں۔

انہوں نے کہا کہ فلم میں پیش کئے گئے خاندان اور وطن کے جذبات وقت اور فاصلوں کی قید سے آزاد ہیں اور یہ فلم ذاتی رشتوں کو اہمیت دینے والی چینی اقدار کی بھی عکاسی کرتی ہے۔

واضح رہے کہ 19 ویں صدی کے دوران اور 20 ویں صدی کے اوائل میں لاکھوں چینی باشندوں نے ملک کے جنوبی ساحلی علاقوں سے جنوب مشرقی ایشیا کی طرف ہجرت کی، جسے مورخین ”نان یانگ ہجرت“ کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ ان میں سے کئی لوگ بالآخر سنگاپور، ملائیشیا، انڈونیشیا اور خطے کے دیگر علاقوں میں آباد ہو گئے جو آج کی بیرون ملک مقیم چینی برادریوں کا حصہ ہیں۔

فلم کے اداکار ژینگ رونچی نے ویڈیو لنک کے ذریعے حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چھاؤشان خطے سے تعلق رکھنے والے بہت سے لوگ دیگر تارکین وطن کی طرح جنوب مشرقی ایشیا اور یورپ میں آباد ہوئے۔ مجھے امید ہے کہ فلم میں اپنی مانوس زبان سن کر انہیں خوشی کا احساس ہوگا۔

لندن میں مقیم کاروباری شخصیت لیو شی یی جن کا تعلق چین کے صوبے گوانگ ڈونگ کے شہر چھاؤ ژو سے ہے، نے شِنہوا کو بتایا کہ چین میں یہ فلم دیکھنے کے بعد ان کے والدین نے گھر میں موجود قدیم ”چھیاؤپی“ تلاش کئے جو ان کے پردادا کے بھائیوں نے ماضی میں بھیجے تھے۔

لیو نے کہا کہ ایسی خاندانی دستاویزات ہمیں پرانی نسلوں کے تجربات سے آگاہ کرتی ہیں اور یہ نجی خطوط خاندانی تاریخ کو ایک زندہ اور محسوس ہونے والی حقیقت بنا دیتے ہیں۔

ٹکٹنگ پلیٹ فارم ماؤیان کے اعداد و شمار کے مطابق یہ فلم جمعہ تک چین کے مقامی باکس آفس پر 1.8 ارب یوآن (تقریباً 27 کروڑ امریکی ڈالر) سے زائد کی کمائی کر چکی ہے۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں