کراچی (لارڈ میڈیا): چاول پکانے سے پہلے انہیں دھونا دنیا بھر میں ایک عام عمل سمجھا جاتا ہے، مگر نئی تحقیق نے اس کے غذائی اثرات کو اجاگر کیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ چاول دھونے کے دوران نہ صرف گرد و غبار بلکہ کچھ غذائی اجزا بھی ضائع ہو سکتے ہیں، تاہم اس کا غذائیت پر کوئی خاص منفی اثر نہیں ہوتا۔
ماہرین کے مطابق، چاول دھونے سے سفید پانی میں نشاستے کے ساتھ آئرن، زنک، تانبا اور وینیڈیم جیسے معدنی اجزا بھی شامل ہوتے ہیں۔ غذائی ماہرین کا کہنا ہے کہ چاول ان معدنیات کا بڑا ذریعہ نہیں ہوتے، اس لیے چاول دھونے سے غذائیت پر کوئی نمایاں منفی اثر مرتب نہیں ہوتا۔
چاول دھونے کی ایک اہم وجہ آرسینک کی مقدار کم کرنا ہے۔ یہ قدرتی عنصر مٹی اور پانی کے ذریعے چاول کے پودوں میں شامل ہو سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق، چاول دھونے سے آرسینک کی کچھ مقدار کم کی جا سکتی ہے، اگرچہ یہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوتا۔
مائیکرو پلاسٹکس کی موجودگی بھی ایک تشویش کا باعث ہے۔ 2021 کی تحقیق کے مطابق، چاول پکانے سے پہلے دھونے سے مائیکرو پلاسٹکس کی مقدار 20 سے 40 فیصد تک کم ہو سکتی ہے۔ ابتدائی شواہد کے مطابق، ان کی موجودگی کو کم کرنا فائدہ مند ہو سکتا ہے۔
بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ جدید صنعتی مراحل سے گزرنے کے بعد سپر مارکیٹس میں فروخت ہونے والے چاول کافی حد تک صاف ہوتے ہیں، اس لیے انہیں بار بار دھونا لازمی نہیں۔ ماہرین کا مجموعی مؤقف یہ ہے کہ چاول دھونا ایک مفید احتیاطی عمل ہو سکتا ہے، لیکن انہیں اس حد تک دھونا کہ پانی مکمل طور پر شفاف ہو جائے، ضروری نہیں۔
غذائی ماہرین کے مطابق، چاولوں کو ایک یا دو بار دھو لینا صفائی اور صحت دونوں کے حوالے سے مناسب سمجھا جاتا ہے، جبکہ ضرورت سے زیادہ دھونے کا کوئی خاص اضافی فائدہ ثابت نہیں ہوا۔


