ووہان (شِنہوا) چین کے نوجوان ملک کی سائنسی اور تکنیکی جدت کے فروغ کے لئے فضائی و خلائی شعبے، گہرے سمندر کی جستجو اور مصنوعی ذہانت جیسے جدید شعبوں میں فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔ یہ بات پیر کے روز تھنک ٹینک کی ایک نئی رپورٹ میں بتائی گئی ہے۔
"چینی نوجوان: نئے دور میں جستجو اور عالمی سطح پر کردار کے حامل” کے موضوع پر شِنہوا انسٹی ٹیوٹ کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق سائنسی اور تکنیکی جدت چینی ترقی کا ایک بنیادی ستون ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جیسے جیسے عالمی سطح پر سائنسی و تکنیکی انقلاب اور صنعتی تبدیلی کی نئی لہر تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے، اسی طرح مصنوعی ذہانت، فضائی وخلائی ٹیکنالوجی، حیاتیاتی طب اور نئی توانائی جیسے شعبوں میں مقابلہ بھی بڑھتا جا رہا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سائنس اور ٹیکنالوجی میں اعلیٰ سطح کی خود کفالت حاصل کرنے اور چین کو ایک بڑے پیداواری ملک سے ذہین پیداوار کی طاقتور ریاست بنانے کے لئے نوجوان نسل کی اختراعی صلاحیتوں اور تخلیقی سوچ سے فائدہ اٹھانا ضروری ہے۔
فضائی وخلائی شعبے میں متعدد نوجوان محققین نے خلائی سٹیشن کی تعمیر کے لئے بنیادی نظاموں کی تحقیق اور ترقی میں حصہ لیا ہے۔ گہرے سمندر کی تحقیق میں تکنیکی نوجوان ماہرین نے چین کے گہرے سمندر میں استعمال ہونے والی انسانی زیر آب گاڑی جیاؤلونگ کی تحقیق و ترقی کی ٹیم میں اہم کردار ادا کیا ہے جبکہ مصنوعی ذہانت کے شعبے میں کئی نوجوانوں کی قیادت میں ابتدائی مرحلوں کی ٹیموں نے الگورتھمز اور بڑے اے آئی ماڈلز میں اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں۔
قومی ادارہ شماریات کے اعداد و شمار کے مطابق چین ہر سال سائنس اور انجینئرنگ کے 30 لاکھ سے زائد گریجویٹس تیار کرتا ہے، جس سے سائنسی اور تکنیکی جدت کے لئے مہارت کا ذخیرہ مسلسل مضبوط ہو رہا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صنعتی ترقی کے اہم محاذوں پر اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر یہ نوجوان "انجینئر کا منافع” کو ایک حقیقی "اختراعی منافع” میں تبدیل کر رہے ہیں اور چینی جدت کے لئے ایک مضبوط محرک قوت بن رہے ہیں۔


