ہومبیلٹ اینڈ روڈ+سی پیکچین کا طرز حکمرانی گلوبل ساؤتھ کے لئے سبق آموز ہے، سابق...

چین کا طرز حکمرانی گلوبل ساؤتھ کے لئے سبق آموز ہے، سابق مصری وزیراعظم

قاہرہ (شِنہوا) مصر کے سابق وزیراعظم عصام شرف نے کہا ہے کہ چین کا طرز حکمرانی ایک ایسا ترقیاتی راستہ پیش کرتا ہے جو جدیدیت، ثقافتی ورثے کے تحفظ اور عوامی مرکزیت پر مبنی پالیسیوں کو یکجا کرتا ہے اور یہ گلوبل ساؤتھ کے ممالک کے لئے قیمتی اسباق فراہم کرتا ہے۔

2005 سے کئی بار چین کا دورہ کرنے والے شرف نے ایک حالیہ انٹرویو کہا کہ حالیہ دہائیوں میں چین کی تبدیلی تیز اقتصادی ترقی، بہتر بنیادی ڈھانچے اور عوامی معیار زندگی میں بہتری کی صورت میں نمایاں ہے۔

انہوں نے کہا کہ چین ایک ترقی پذیر ملک سے ترقی کرتے ہوئے دنیا کی دوسری بڑی معیشت بن چکا ہے، جس کے پاس جدید انفراسٹرکچر موجود ہے، جس میں ہائی سپیڈ ریلوے، جدید بندرگاہیں، سمارٹ شہر اور بڑھتی ہوئی تکنیکی صلاحیتیں شامل ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ "اصل بات یہ ہے کہ اس تبدیلی نے لوگوں کی زندگیوں پر کیا اثر ڈالا ہے۔” انہوں نے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ چین نے کروڑوں لوگوں کو غربت سے نکالا، صحت اور تعلیم میں بہتری لائی اور معیار زندگی بلند کیا۔

سابق وزیراعظم، جو بین الاقوامی تعاون کے لئے بیلٹ اینڈ روڈ فورم کی مشاورتی کونسل کے رکن بھی ہیں، نے کہا کہ کئی ممالک اب چین کی ترقی کو صرف ایک معاشی کامیابی نہیں بلکہ ایک ایسے وسیع ماڈل کے طور پر دیکھتے ہیں جو جدیدیت اور قومی شناخت کے تحفظ کے درمیان توازن قائم کرتا ہے۔

اپنے دورہ چین کے دوران انہوں نے کہا کہ انہوں نے وہاں کی تیز رفتار ترقی اور عوام کا حکومت پر گہرا اعتماد خود دیکھا۔

انہوں نے کہا کہ "چینی عوام اپنی حکومت اور اپنی جماعت پر اعتماد کرتے ہیں اور اپنے ملک کے مستقبل کے لئے محنت کرنے کو تیار ہیں۔”

شرف کے مطابق چینی طرز جدیدیت نے ترقی پذیر ممالک میں اس لئے دلچسپی پیدا کی ہے کیونکہ یہ معاشی ترقی کے ساتھ ساتھ ثقافتی جڑوں کو بھی برقرار رکھتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ چین نے اپنی تہذیبی اور ثقافتی شناخت کو برقرار رکھتے ہوئے جدیدیت حاصل کی ہے اور یہ طرز عمل عرب ممالک اور وسیع تر گلوبل ساؤتھ کے لئے اہم اسباق رکھتا ہے۔

انہوں نے چین کے عوامی مرکزیت پر مبنی حکمرانی کے ماڈل کو بھی سراہا اور کہا کہ یہ فلسفہ کئی ترقی پذیر ممالک میں بڑھتی ہوئی دلچسپی کا باعث بن رہا ہے۔

ٹرانسپورٹ انجینئر کے طور پر اپنے تجربے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے چین کے جدید ٹرانسپورٹ نظام، خصوصاً ہائی سپیڈ ریلوے کو انتہائی متاثر کن قرار دیا۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں