کوالالمپور (شِنہوا) بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو (بی آر آئی) جیسے جیسے بنیادی ڈھانچے، کاروبار اور عوامی روابط میں نئے مواقع پیدا کر رہا ہے، ملائیشیا اور چین کے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد سرحدوں کے پار اپنے کیریئر، دوستی اور مشترکہ امنگوں کو مضبوط بنا رہی ہے۔ یہ نوجوان دونوں ممالک اور ان کے عوام کے لئے باہمی تعاون کو ٹھوس فوائد میں تبدیل کر رہے ہیں۔
جوہر آبنائے کے پار 4 کلومیٹر تک پھیلا ہوا جوہر بھرو-سنگاپور ریپڈ ٹرانزٹ سسٹم (آر ٹی ایس) لنک ملائیشیا اور سنگاپور کے درمیان رابطے کو بہتر بنانے کے لئے تیار کیا جا رہا ہے۔ فعال ہونے کے بعد یہ لائٹ ریل ٹرانزٹ نظام ہر سمت میں فی گھنٹہ 10 ہزار تک مسافروں کو لے جانے کی صلاحیت رکھے گا، جس سے دنیا کے مصروف ترین سرحدی گزرگاہوں میں سے ایک پر ٹریفک دباؤ میں کمی آئے گی۔
جنوبی ریاست جوہر سے تعلق رکھنے والے 25 سالہ ملائیشین انجینئر محمد شفیق کے لئے آر ٹی ایس لنک کے تعمیراتی مقام پر فرنٹ لائن پر رہنا روزمرہ کی زندگی کا حصہ بن چکا ہے۔
شفیق کی نظر میں آر ٹی ایس لنک محض ایک ٹرانسپورٹ منصوبہ نہیں ہے بلکہ یہ ایک ایسا اہم رابطہ ہے جو سرحد کے دونوں طرف کی کمیونٹیز کو ایک دوسرے کے قریب لائے گا۔
انہوں نے کہا کہ سرحد پار کا سفر صرف چند منٹوں تک محدود ہونے اور امیگریشن کے طریقہ کار کے مزید آسان ہو جانے سے لوگوں کو یہ احساس شدت سے ہوگا کہ وہ ایک مربوط میٹروپولیٹن علاقے کا حصہ ہیں۔
جیسے ہی یہ منصوبہ جانچ اور باقاعدہ آغاز کے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے، مختلف ممالک کی تکنیکی ٹیمیں اس کے محفوظ اور ہموار آپریشن کو یقینی بنانے کے لئے مل کر کام کر رہی ہیں۔ ملائیشیا اور سنگاپور کے شراکت داروں کے ساتھ ساتھ چینی کمپنیوں نے بھی ریل کے شعبے میں اپنی مہارت کا تبادلہ کیا ہے جس میں رولنگ سٹاک سسٹمز کی فراہمی اور ٹیسٹنگ کے دوران تکنیکی مدد شامل ہے۔
چینی مینوفیکچرر سی آر آر سی ژوژو لوکوموٹو کمپنی لمیٹڈسے تعلق رکھنے والے ایک انجینئر لی لین ژونگ نے کہا کہ "ہر نظام کا انفرادی طور پر تجربہ کیا جانا ضروری ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ ان کا بیک وقت ٹیسٹ بھی لازمی ہے تاکہ باہمی ہم آہنگی اور درستی کو یقینی بنایا جا سکے۔”
لی کے مطابق آزمائشی مرحلے کے دوران جمع کئے گئے آپریشنل ڈیٹا کی بار بار جانچ اور تصدیق کی جاتی ہے تاکہ ملائیشیا کے گرم اور مرطوب موسم میں نظام کی مستحکم کارکردگی کو یقینی بنایا جا سکے۔
کئی برسوں سے ملائیشیا میں تعینات لی مختلف ریلوے ٹرانزٹ منصوبوں کی تعمیر میں حصہ لے چکے ہیں اور ملک بھر میں متعدد منصوبوں پر کام کر چکے ہیں۔ ان کے مطابق مختلف ممالک کے انجینئروں اور ماہرین کے درمیان قریبی تعاون نہ صرف منصوبوں کی کامیابی میں مدد دیتا ہے بلکہ پیشہ ورانہ تجربات اور ثقافتی تبادلوں کو بھی فروغ دیتا ہے۔


