ہومتازہ ترینبیجنگ میں ’عالمی انسانی حقوق طرزِ حکمرانی فورم‘ کا انعقاد

بیجنگ میں ’عالمی انسانی حقوق طرزِ حکمرانی فورم‘ کا انعقاد

اسٹینڈ اپ (انگریزی): یو جیا مِنگ، نمائندہ شِنہوا

’’ 100 سے زیادہ ممالک، اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی تنظیموں سے تعلق رکھنے والے 400 سے زائد شرکاء بیجنگ میں 2026 کے عالمی انسانی حقوق طرزِ حکمرانی فورم میں جمع ہو رہے ہیں تاکہ ترقی، انسانی حقوق اور عالمی حکمرانی کے مستقبل پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔

کئی شرکاء نے چین کی انسانی حقوق میں پیش رفت اور ترقیاتی کامیابیوں کو بہت زیادہ سراہا ہے۔

ساؤنڈ بائٹ 1 (انگریزی): سُریا دیوا، خصوصی رپورٹر برائے حقِ ترقی، او ایچ سی ایچ آر، اقوام متحدہ

’’میرا خیال ہے کہ ہمیں آگے بڑھتے ہوئے اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ حکمرانی میں تمام ریاستوں کی برابر اور منصفانہ نمائندگی ہو اور یہی بات انسانی حقوق کے حوالے سےبھی لاگو ہوتی ہے۔

بین الاقوامی تعاون بنیادی اہمیت رکھتاہے کیونکہ دنیا کو جن چیلنجز کا سامنا ہے انہیں کوئی بھی ملک اکیلا حل نہیں کر سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ تمام ممالک کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ چین نے دنیا کے جنوبی خطے کے ممالک کے درمیان تعاون میں ایک اہم کردار ادا کیا اور وہ اقوام متحدہ کے منشورکے دفاع اور حقِ ترقی کے فروغ کے لئے بھی کوشش کر رہا ہے جس سے بین الاقوامی تعاون کی بنیادی عنصر کے طور پر اہمیت اجاگر ہوتی ہے۔

چین نے ثابت کیا ہے کہ لاکھوں لوگوں کو غربت سے نکالا جا سکتا ہے اور بلاشبہ ان لوگوں کو غربت سے نکالنا انسانی حقوق کے حصول کے لئے انتہائی اہم ہے۔‘‘

ساؤنڈ بائٹ 2 (پرتگالی): ایسمرالدا براوو کونڈے دا سلوا مینڈونسا، ریاستی سیکرٹری برائے خارجہ امور، انگولا

’’ہم چین کو ایک اسٹریٹجک شراکت دار کے طور پر دیکھتے ہیں کیونکہ وہ بنیادی ڈھانچے اور نجی شعبے میں ایک اہم شراکت دار رہا ہے۔

ہمیں کچھ چینی شہروں کے دورے کرنے کا موقع بھی ملا اور ہم نے وہاں ترقی کی واضح علامات دیکھیں۔ ہمیں چین کی مہارت کی ضرورت ہے کیونکہ یہ ایک ایسا ملک ہے جس نے بہت کم وقت میں تیزی سے ترقی پائی اور ترقی کی اعلیٰ سطح تک پہنچ گیا۔ اس لئے ہمیں بھی آپ کے تجربے سے سیکھنے کی ضرورت ہے۔‘‘

ساؤنڈ بائٹ 3 (انگریزی): محمد ثاقب، بانی و ڈائریکٹر، سینٹر آف جیو اکنامکس فار دی گلوبل ساؤتھ (سی او جی جی ایس)

’’چین نے اقتصادی اور سماجی میدان میں اور خاص طور پر انسانی حقوق کی ترقی کے حوالے سے شاندار کارکردگی دکھائی ہے۔

میری رائے میں چین عالمی حکمرانی کا ایک متبادل ماڈل پیش کر رہا ہے جو ترقی پذیر ممالک سمیت سب کے لئے زیادہ سازگار اور موافق ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ معاملہ انتہائی اہم ہے کیونکہ بھوک، پیاس اور جہالت کی حالت میں انسانی حقوق کا حقیقی تحفظ ممکن نہیں ہوتا۔ میرے خیال میں ترقی انسانی حقوق کی بنیادی شرط ہے اور چین اس میں بہترین مثال پیش کر رہا ہے جو عالمی جنوب کے لئے ایک بڑا سبق ہے۔

ہم نے چار مطالعاتی دورے کئے جبکہ میں نے دو پروگرام بھی دیکھے جن میں سے ایک بزرگ افراد کے لئے تھا جبکہ دوسرا آٹزم سے متاثرہ افراد کے حوالے سے تھا۔ ان پروگراموں میں ان لوگوں سےمتعلق بات کی جا رہی ہے جو واقعی اہمیت رکھتے ہیں۔ آج کے چین کی ایک منفرد خصوصیت یہی ہے کہ یہاں انسان کو اولین ترجیح دی جاتی ہے۔‘‘

بیجنگ سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں