ہومتازہ ترینچینی محققین نئی آر این اےایڈیٹنگ ٹیکنالوجی کے ذریعے نایاب بیماری کے...

چینی محققین نئی آر این اےایڈیٹنگ ٹیکنالوجی کے ذریعے نایاب بیماری کے علاج میں کامیاب

چین کی ایک تحقیقاتی ٹیم نے ’’لیپر‘‘ کے نام سے اپنی نئی تیار کردہ آر این اے ایڈیٹنگ ٹیکنالوجی کے ذریعے ڈوشین مسکولر ڈسٹروفی (ڈی ایم ڈی) کے علاج میں ایک بڑی پیش رفت حاصل کی ہے۔ ڈی ایم ڈی ایک شدید اور نایاب موروثی بیماری ہے۔ اس ٹیکنالوجی اور اس کے کلینیکل استعمال کی تفصیلات بدھ کے روز جریدے ’’سیل‘‘ میں شائع کی گئیں۔

یہ پہلی بار ہے کہ چین میں تیار کردہ آر این اے ایڈیٹنگ ٹیکنالوجی کلینیکل ٹرائلز میں داخل ہوئی ہےجبکہ یہ بھی عالمی سطح پر پہلا موقع ہے کہ آر این اے ایڈیٹنگ کو ڈی ایم ڈی کے علاج میں استعمال کیا گیا ہے۔

ڈی ایم ڈی جینیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے پیدا ہونے والی بیماری ہے جس کی علامات میں بتدریج پٹھوں کی کمزوری اور جسمانی حرکت کی صلاحیت کا ختم ہونا شامل ہے۔ مریضوں میں عام طور پر بچپن میں علامات ظاہر ہونا شروع ہو جاتی ہیں، وہ آہستہ آہستہ چلنے کی صلاحیت کھو دیتے ہیں جبکہ زیادہ تر مریض سانس یا دل کی ناکامی کے باعث قبل از وقت موت کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اگرچہ اسے ایک نایاب بیماری کے طور پر درجہ بندی کیا گیا ہے لیکن چین میں ایک بڑی آبادی کے باعث ڈی ایم ڈی کے مریضوں کی تعداد دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔ موجودہ علاج صرف بیماری کے بڑھنے کی رفتار کو جزوی طور پر سست کر سکتے ہیں لیکن بیماری سے مکمل طور پر نجات نہیں دےسکتے۔

ڈی ایم ڈی کو جین تھراپی کے میدان میں وسیع پیمانے پر سب سے زیادہ پیچیدہ اور مشکل بیماریوں میں سے ایک کے طور پر بھی شمار کیا جاتا ہے۔ اس بیماری کا سبب بننے والا جین اتنا بڑا ہے کہ روایتی جین تھراپی طریقے سے اسے مکمل طور پر مریض کے جسم میں منتقل نہیں کیا جا سکتا۔

اس کے علاوہ مختلف مریضوں میں 7 ہزار سے زائد اقسام کی بیماری پیدا کرنے والی جینیاتی تبدیلیاں پائی جاتی ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ایک ہی علاجی طریقہ اکثر صرف بہت کم تعداد کے مریضوں کے لئے مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔ اسی لئے ایسے علاجی طریقوں کی تیاری جو وسیع پیمانے پر مؤثر بھی ہوں اور طویل مدتی نتائج بھی فراہم کریں عالمی طبی برادری کے لئے اب تک ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے۔

یہ نئی آر این اے ایڈیٹنگ ٹیکنالوجی بیجنگ میں قائم چانگ پِنگ لیبارٹری اور پیکنگ یونیورسٹی کی ایک ٹیم نے تیار کی ۔ ٹیم کے سربراہ وی وین شینگ کے مطابق لیپرسسٹم کے اجزا پٹھوں کے خلیات میں موجود غلط جینیاتی ’’نقشے‘‘ کی درست نشاندہی کر سکتے ہیں، مخصوص جینیاتی حصوں کو ہٹا کر جین کو بحال کرتے ہیں اور خلیات کو درست شدہ ’’نقشے‘‘ کے مطابق فعال پروٹین بنانے کے قابل بناتے ہیں جس سے پٹھوں کی کارکردگی دوبارہ بحال ہونے میں مدد ملتی ہے۔

روایتی طریقوں کے برعکس یہ نئی ٹیکنالوجی بیرونی ایڈیٹنگ انزائمز کی ترسیل کی ضرورت نہیں رکھتی بلکہ یہ صرف انجینئرڈ آر این اےمالیکیولز کے ایک حصے کے ذریعے انسانی خلیات میں قدرتی طور پر پہلے سے موجود اہم انزائمز کو متحرک کر کے ہدف شدہ آر این اے کی درست ایڈیٹنگ انجام دے سکتی ہے۔ یہ نظام سادہ اور زیادہ محفوظ ہے اور اس میں ترسیل کا بوجھ بھی نہایت کم ہوتا ہے۔

اس ٹیم نے چین کے جنوب مغربی علاقے کی کونمنگ یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی، مشرقی علاقے کی شہر شنگھائی کی جیاؤ ٹونگ یونیورسٹی اور دیگر اداروں کے ساتھ مل کر ممکنہ ادویات تیار کرنے میں تعاون کیا ہے۔ اس طریقہ علاج سے تین مریض بچوں نےایک سال کے عرصے کے دوران جسمانی حرکت کی صلاحیت میں واضح اور مسلسل بہتری دکھائی ہے۔

چانگ پِنگ لیبارٹری کے ڈائریکٹر اور چائنیز اکیڈمی آف سائنسز کے ماہرِ تعلیم شیے شیاؤ لیانگ نے کہا کہ لیپر پلیٹ فارم کی تیاری اور اس کا عملی استعمال اس لیبارٹری کے اس عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ بنیادی تحقیق اور جدید ترین ٹیکنالوجی کے ذریعے نئی ادویات کی تیاری کو فروغ دے رہی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ نئی ٹیکنالوجی بڑی بیماریوں میں مبتلا مزید مریضوں کے لئے فائدہ مند ثابت ہوگی۔

بیجنگ سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں