شیامن (شِنہوا) آبنائے کے آر پار کے پیچیدہ اور سنگین پس منظر کے باوجود چین کے صوبے فوجیان کے شہر شیامن میں جاری 18واں آبنائے فورم ایک واضح اور غیر مبہم پیغام دے رہا ہے کہ مین لینڈ تائیوان کے ہم وطنوں کو دل کھول کر خوش آمدید کہتا ہے تاکہ وہ اس کے ترقیاتی مواقع اور کامیابیوں میں شریک ہو سکیں۔
آبنائے تائیوان کے دونوں کناروں کو جوڑنے والے عوامی سطح کے اس سالانہ تبادلے کے پلیٹ فارم کے طور پر اس سال کا فورم مین لینڈ کے حقیقی خلوص اور خیر سگالی کا مظہر ہے۔ یہ فورم تبادلوں اور تعاون کو بڑھانے، مربوط ترقی کو فروغ دینے اور پوری چینی قوم کی پائیدار خوشحالی کے تحفظ کے لئے آبنائے کے دونوں طرف کے ہم وطنوں کے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
ایک حقیقت ہی سب کچھ واضح کرنے کے لئے کافی ہے کہ تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے تائیوان کے نمائندوں کے بڑے گروپوں نے ڈیموکریٹک پروگریسو پارٹی کے حکام کی طرف سے کھڑی کی گئی رکاوٹوں کو عبور کر کے اس فورم میں شرکت کی ہے۔ ان کی موجودگی یہ ثابت کرتی ہے کہ کوئی بھی طاقت اس قدرتی اور ناگزیر رجحان کو نہیں روک سکتی جو آبنائے کے دونوں طرف کے ہم وطنوں کو ایک دوسرے کے قریب لا رہا ہے۔
2009ء میں اپنے آغاز کے بعد سے آبنائے فورم نے مسلسل آر پار عوامی رشتوں کو مضبوط کیا ہے اور دونوں طرف کے لوگوں کو حقیقی فوائد پہنچائے ہیں۔ اس سال کے فورم میں مالیات، ٹیکنالوجی، دیہی ترقی، نئے میڈیا اور دیگر شعبوں سے متعلق 58 سرگرمیاں شامل ہیں۔
یہ تقریب تعلیم، ای کامرس، بائیومیڈیسن اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کے شعبوں میں تبادلوں کو بھی فروغ دیتی ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ تائیوان کے نوجوانوں کے لئے ملازمتوں اور نئے کاروبار کے مزید مواقع پیدا کرتی ہے۔
اس سال کے فورم نے ان 10 اقدامات پر عملدرآمد میں ٹھوس پیش رفت کی ہے جو مین لینڈ نے اپریل میں آبنائے کے آر پار تبادلے اور تعاون کے لئے شروع کئے تھے۔ ان کے واضح نتائج تائیوان کی زرعی اور ماہی گیری کی مصنوعات کی خریداری سے لے کر تائیوان کے ٹی وی ڈراموں کو نشر کرنے کے منصوبوں تک پھیلے ہوئے ہیں۔
فوجیان کو 2023ء میں آبنائے کے آر پار مربوط ترقی کے لئے ایک مثالی زون قرار دیا گیا تھا۔ ٹھوس اعداد و شمار ایک متاثر کن کہانی سناتے ہیں۔ گزشتہ سال بندرگاہوں پر 10 لاکھ 40 ہزار سے زائد تائیوانی سیاحوں کی آمد ریکارڈ کی گئی، جو کہ 2023ء کے اعداد و شمار سے تقریباً دوگنا ہے۔ گزشتہ 3 سال کے دوران اس صوبے میں تائیوان کے سرمائے سے چلنے والے 7 ہزار 100 سے زائد نئے کاروباری ادارے قائم کئے جا چکے ہیں۔


