ہومانٹرنیشنلایرانی تاجر کی جنگی رکاوٹوں کو عبور کر کے چین-جنوبی ایشیا نمائش...

ایرانی تاجر کی جنگی رکاوٹوں کو عبور کر کے چین-جنوبی ایشیا نمائش میں شرکت

کونمنگ (شِنہوا) 43 سالہ ایرانی تاجر حامد حسن نژاد نے 10 جون کو چین کے جنوب مغربی صوبے یون نان کے دارالحکومت پہنچنے پر جوشیلے انداز میں کہا کہ جب میں کونمنگ کو دیکھتا ہوں، تو مجھے اپنا خواب نظر آتا ہے ۔ وہ جنگ کی تباہ کاریوں کے باعث ایک پرخطر سفر طے کرنے کے بعد اگلے ہی دن شروع ہونے والی 10ویں چین-جنوبی ایشیا نمائش کے آغاز کے لئے بالکل وقت پر پہنچ گئے۔

یہ حسن نژاد کی اس نمائش میں دوسری شرکت تھی، جب کہ ان کی پہلی شرکت بھی پچھلے سال ایک نہایت کٹھن تجربے کے بعد ہوئی تھی۔

2025ء میں انہوں نے اپنی اہلیہ نسترن رجب زادی سمانی نے زمینی راستے سے ترکیہ میں داخل ہونے کے لئے جنگی علاقوں کو عبور کر کے اپنی جان خطرے میں ڈالی اور کونمنگ پہنچنے کے لئے 6 دن کا ایک تھکا دینے والا سفر طے کیا۔ جب وہ پہنچے تو نمائش کو شروع ہوئے 3 دن گزر چکے تھے۔ نامہ نگار کو اچھی طرح یاد ہے کہ اس وقت وہ حسن نژاد کو ان کے سٹال پر ملا تھا۔ وہ تھکے ہوئے ضرور تھے لیکن پرعزم تھے، کیونکہ انہوں نے ابھی ابھی اپنی نمائش سجائی تھی۔ اس وقت ایران میں جاری تنازع کے باعث ان کا اپنے خاندان سے رابطہ منقطع ہو گیا تھا۔ رخصت ہوتے وقت میں نے ان کا سر تھام کر آہستہ سے کہا کہ "مجھے امید ہے کہ آپ جلد اپنے خاندان سے دوبارہ مل سکیں گے۔ ہم ہمیشہ آپ کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔” یہ سن کر ہماری دونوں کی آنکھوں میں آنسو امڈ آئے۔

ان کی کہانی، جسے میڈیا اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بڑے پیمانے پر شیئر کیا گیا، نے عوام کے دلوں کو چھو لیا۔ درجنوں رضاکاروں نے ترجمے، ان کا سامان بیچنے اور یہاں تک کہ انٹرنیٹ صارفین کی طرف سے چیزیں خریدنے میں مدد کے لئے ہاتھ بڑھایا۔ ان کا سارا مال دیکھتے ہی دیکھتے بک گیا۔

اس سال مارچ میں جب ایران میں ایک بار پھر تنازع بھڑک اٹھا تو میں نے تشویش کے عالم میں اپنے پرانے دوست کو پیغام بھیجا، مگر جواب میں صرف ایک خوفناک خاموشی ملی۔ مجھے خدشہ تھا کہ "حامد” نام کا وہ وی چیٹ ڈائیلاگ باکس شاید پھر کبھی نہیں کھلے گا۔ تاہم جون میں ہونے والی نمائش سے قبل میں نے ایک بار پھر کوشش کی اور پیغام بھیجا کہ "کیا آپ خیریت سے ہیں؟ کیا آپ اس سال بھی نمائش میں شرکت کریں گے؟” ایک ماہ کی خاموشی کے بعد بالآخر اس کا جواب میری سکرین پر نمودار ہوا کہ "میں اس سال نمائش میں شرکت کروں گا۔”

مارچ سے ایران میں انٹرنیٹ کی شدید بندش نے رابطے کو انتہائی مشکل اور معطل بنا دیا تھا، اس جوڑے کی چین کے لئے پروازیں بار بار ملتوی ہو رہی تھیں۔ یہاں تک کہ 9 جون کو بیجنگ کے وقت کے مطابق رات ایک بج کر 30منٹ پر جب بورڈنگ پاس ان کے ہاتھ میں تھے، لڑائی میں اچانک شدت آنے کی وجہ سے ان کی پرواز اچانک منسوخ کر دی گئی۔ ہار ماننے سے انکار کرتے ہوئے حسن نژاد نے متبادل راستے تلاش کئے، یہاں تک کہ گزشتہ سال کے زمینی سفر کو دہرانے کے لئے ایران-ترکیہ سرحد کے لئے بس کے ٹکٹ بھی خرید لئے۔ خوش قسمتی سے ایک دن کے انتظار کے بعد تہران کا ہوائی اڈہ دوبارہ کھل گیا، جس سے وہ بالآخر چین کے شہر گوانگ ژو کے لئے پرواز میں سوار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔

گوانگ ژو پہنچتے ہی حسن نژاد نے چینی سم کارڈ حاصل کیا اور فوراً مجھے فون کیا۔ انہوں نے سکون کا سانس لیتے ہوئے کہا کہ "آپ کو معلوم ہے؟ ہماری پرواز کے اڑان بھرنے کے ٹھیک ایک گھنٹے بعد تہران کا ہوائی اڈہ پھر سے بند ہو گیا۔” مجھے معلوم تھا کیونکہ میں بے چینی سے ان کی پرواز اور خبروں پر نظر رکھے ہوئے تھا۔

کونمنگ پہنچ کر حسن نژاد نے خوشی سے کہا کہ "میں چین اور چینی لوگوں سے محبت کرتا ہوں، آپ لوگ مجھے حوصلہ دیتے ہیں۔ میں بہت تھکا ہوا ہوں، لیکن یہاں آ کر مجھے بہت سکون محسوس ہو رہا ہے۔ یہ میرا گھر ہے اور یہاں کے لوگ میرے بھائی اور بہنیں ہیں۔”

ان کی اہلیہ نسترن، جو بہت کم انگریزی بولتی ہیں، عام طور پر خاموش رہتی ہیں اور ایک گرمجوش مسکراہٹ کے ساتھ مہمانوں کا استقبال کرتی ہیں۔ وہ ایک آرٹسٹ اور دستکار ہیں، نمائش میں بہت سی شاندار پرشین دستکاریاں رکھی گئی ہیں، ان میں رال سے جڑے فن پارے، مینا کاری والے تانبے کے برتن، ایرانی قالین اور ان کی اپنی تخلیقات شامل ہیں۔

چین میں حسن نژاد کے کاروباری سفر کا آغاز 2013 سے ہوتا ہے، لیکن وقت نے ان کا نظریہ محض "چین کے ساتھ کاروبار کرنے” سے بدل کر "چین میں کاروبار کرنے” کی طرف موڑ دیا ہے۔

جب گزشتہ سال ان سے پوچھا گیا کہ وہ اتنی بڑی رکاوٹوں کے باوجود نمائش میں شرکت کے لئے اتنے پرعزم کیوں تھے، تو ان کا جواب اہلیہ سے کیا گیا ان کا ایک وعدہ تھا کہ "میں نے اس سے وعدہ کیا ہے کہ میں اسے یہاں لاؤں گا کیونکہ یہاں کوئی جنگ نہیں ہے۔ میں مستقبل میں چین میں ایک سٹوڈیو کھولنے میں اس کی مدد کرنا چاہتا ہوں۔”

اس سال ان کے جواب میں امن اور سکون کے لئے ایک اور بھی گہری تڑپ نظر آئی۔ حسن نژاد نے کہا کہ "میری اہلیہ نے مجھے بتایا کہ گزشتہ سال کا کونمنگ کا سفر ان کی زندگی کا بہترین سفر تھا، یہ بہت خوبصورت اور پرخلوص تھا۔ میں نے پکا ارادہ کر لیا ہے کہ میں اپنی کمپنی اور اپنا گھر چین میں ہی بناؤں گا۔ میں بس ایک سادہ زندگی چاہتا ہوں، جو جنگ اور دھماکوں سے پاک ہو۔ کسی دن اپنی اہلیہ کا ہاتھ تھام کر اپنے کتے کو گھماتے ہوئے سڑک پر آزادی سے چہل قدمی کر سکوں، میرے لئے بس یہی کافی ہوگا۔”

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں