واشنگٹن (لارڈ میڈیا): امریکی ڈیموکریٹ رہنماؤں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران کے ساتھ متوقع امن معاہدے پر شدید شکوک و شبہات اور تنقید کا اظہار کیا ہے۔ ڈیموکریٹ سینیٹر ایڈم اسکف نے سوشل میڈیا پر کہا ہے کہ ٹرمپ کی جانب سے جنگ کے خاتمے کا اعلان پہلے بھی سنا جا چکا ہے، لیکن وعدے ٹوٹے ہیں اور امریکی عوام کو نقصان پہنچا ہے۔
کانگریس مین سیتھ مولٹن نے اس معاہدے کو ‘سرینڈر کی دستاویز’ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ٹرمپ کی ایران کے سپریم لیڈر کے سامنے ہتھیار ڈالنے کی دستاویز ہے۔ انہوں نے کہا کہ 100 ارب ڈالر ٹیکس دہندگان کا پیسہ خرچ ہو چکا ہے اور 14 امریکی ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کا معاہدہ کیا جا رہا ہے۔
صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اتوار کو امریکا اور ایران کے درمیان معاہدے پر دستخط ہوں گے اور اس کے فوری بعد آبنائے ہرمز کھول دی جائے گی۔ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران اب جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا خواہش مند نہیں ہے۔


