اسلام آباد (لارڈ میڈیا): فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے وفاقی بجٹ 2026-27 کے تحت کھانے پینے اور گھریلو استعمال کی اشیاء پر نئے ٹیکس عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ آئندہ مالی سال کے لیے 15 ہزار 264 ارب روپے کا ٹیکس ہدف مقرر کیا گیا ہے جس میں 650 ارب روپے کے اضافی ٹیکس شامل ہوں گے۔
بجٹ میں ریٹیل پیکنگ میں فروخت ہونے والی اشیاء جیسے دودھ، بچوں کا فارمولا ملک اور دیگر دودھ سے بنی مصنوعات پر سیلز ٹیکس عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ گھی، خوردنی تیل، مٹھائیاں، پاستا اور مسالوں پر بھی 18 فیصد جنرل سیلز ٹیکس لگانے کی سفارش کی گئی ہے۔
زراعتی ادویات، جراثیم کش مصنوعات، پلاسٹک کی گھریلو اشیاء، کچن ویئر اور اسٹوریج آئٹمز پر بھی ٹیکس لاگو ہوگا، جبکہ سفری سامان جیسے بیگ، سوٹ کیس اور ہینڈ بیگ بھی مہنگے ہو جائیں گے۔
گاڑیوں کی ریٹیل فروخت پر بھی ٹیکس لگایا گیا ہے، 2 سے 3 کروڑ کی لگژری ایس یو وی گاڑیوں پر 30 فیصد جبکہ 3 کروڑ سے زائد پر 40 فیصد ٹیکس عائد کیا گیا ہے۔ غیر رجسٹرڈ سپلائرز سے خریداری پر 5 فیصد ٹیکس اور ڈسٹری بیوٹرز پر ٹیکس کی شرح 0.25 فیصد سے 0.50 فیصد بڑھا دی گئی ہے۔
خام مال درآمد کر کے فروخت کرنے والے کمرشل امپورٹرز پر 3 فیصد ٹیکس لگایا گیا ہے۔


