روم (لارڈ میڈیا): سائنسدانوں نے 5000 سال پرانی ممی ‘اوٹزی دی آئس مین’ سے حاصل ہونے والے خمیر سے کھانے کے قابل روٹی تیار کر لی ہے۔ اوٹزی کی ممی 1991 میں اٹلی اور آسٹریا کی سرحد کے قریب برف میں جمی ہوئی ملی تھی۔ اس ممی پر تحقیق کرنے والے ماہرین نے نہ صرف اس خمیر سے روٹی بنائی ہے بلکہ اب وہ اس سے بیئر تیار کرنے کا ارادہ بھی رکھتے ہیں۔
اوٹزی کی لاش تقریباً 5300 سال تک برف میں محفوظ رہی اور اس دریافت کے بعد سائنسدان مسلسل اس پر تحقیق کر رہے ہیں تاکہ قدیم انسانوں کی زندگی کے بارے میں بہتر سمجھ حاصل کی جا سکے۔
یوریک ریسرچ کے انسٹی ٹیوٹ فار ممی اسٹڈیز کے سائنسدانوں نے اوٹزی کی باقیات اور اس کے ارد گرد موجود مائیکرو آرگنزمز سے زندہ خمیر کو الگ کیا۔
ماہرین نے پہلی بار قدیم خمیر کو روٹی پکانے کے لیے استعمال کیا۔ مائیکروبائیولوجسٹ محمد سرحان نے کہا کہ یہ ایک بہترین شروعات ہے۔ انہوں نے بتایا کہ خمیر سے تیار شدہ آٹے نے چوبیس گھنٹوں میں بالکل عام خمیر کی طرح پھول کر شکل اختیار کر لی۔
روٹی بنانے کے کامیاب تجربے کے بعد اب اس خمیر کا اگلا بڑا استعمال بیئر بنانا ہو سکتا ہے۔ محمد سرحان کے مطابق ریسرچ ٹیم نے اس منفرد خیال پر جرمنی کی مشہور وینہینسٹیفن بروری کے ماہرین سے بات چیت بھی شروع کر دی ہے۔


