کوئٹہ (لارڈ میڈیا): کوئٹہ کے 22 سالہ نوجوان رحمت اللہ میں کانگو وائرس کی تصدیق ہوگئی ہے، جو اس سال رپورٹ ہونے والا دوسرا کیس ہے۔ مریض کو بخار اور ناک سے خون آنے پر جناح اسپتال کراچی لایا گیا، جہاں معائنے کے دوران اس کے خون میں پلیٹ لیٹس اور ہیموگلوبن کی سطح انتہائی کم پائی گئی جبکہ جگر کے انزائمز میں شدید اضافہ ہوا۔ کانگو وائرس کا ٹیسٹ مثبت آنے پر اسے نیپا اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
حکام نے بتایا ہے کہ مریض کے دیگر ٹیسٹوں کے ساتھ کانگو پی سی آر ٹیسٹ بھی کروایا گیا تھا جس سے بیماری کی تصدیق ہوئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ کانگو وائرس ایک خطرناک وائرل بیماری ہے جو عموماً مویشیوں میں پائے جانے والے چیچڑ کے کاٹنے سے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے، جبکہ متاثرہ جانور کے خون یا ٹشوز سے براہِ راست رابطہ بھی اس کا سبب بن سکتا ہے۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ متاثرہ مریض کے خون اور جسمانی رطوبتوں سے قریبی رابطے میں آنے والے افراد کو بھی انفیکشن کا خطرہ ہوتا ہے۔ اس کی علامات میں تیز بخار، شدید کمزوری، سر درد، ناک اور مسوڑھوں سے خون آنا اور جسم پر نیل پڑنا شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کانگو وائرس سے بچاؤ کے لیے چیچڑ سے تحفظ، متاثرہ جانوروں سے احتیاط اور طبی عملے کے لیے حفاظتی تدابیر اپنانا انتہائی ضروری ہے، اور جانوروں کو ہاتھ لگاتے وقت دستانوں کا استعمال لازمی ہے۔


