بیجنگ (شِنہوا) چین کی اعلیٰ مقننہ، 14 ویں قومی عوامی کانگریس (این پی سی) کی قائمہ کمیٹی کے جاری اجلاس میں وکلاء کے قانون میں ترمیم کا ایک مسودہ پہلے جائزہ کے لئے پیش کیا گیا۔
یہ قانون سازی چین کی ان وسیع کوششوں کا حصہ ہے جن کا مقصد موجودہ وکالتی نظام کو بہتر بنانا اور ملک کے اندر اور بیرونی معاملات میں قانون کی حکمرانی کو مزید مضبوط اور ہم آہنگ کرنا ہے۔
مسودے میں غیر ملکی قانونی خدمات کی ترقی سے متعلق شقیں شامل ہیں جن میں غیر ملکی امور کے ماہر قانونی افراد کی تیاری اور قانونی اداروں کی صلاحیت میں اضافہ شامل ہے تاکہ وہ اس نوعیت کی خدمات بہتر طور پر فراہم کر سکیں۔
2020 میں قومی عوامی کانگریس کی قائمہ کمیٹی نے ایک فیصلے کی منظوری دی تھی جس کے تحت حکومت کو اجازت دی گئی کہ وہ ایک آزمائشی پروگرام شروع کرے جس کے ذریعے ہانگ کانگ اور مکاؤ کے وکلاء کو گوانگ ڈونگ-ہانگ کانگ-مکاؤ عظیم تر خلیجی علاقے (جی بی اے) میں وکالت کی اجازت دی جائے۔ اس آزمائشی پروگرام کو 2023 میں بڑھا کر 4 اکتوبر 2026 تک کر دیا گیا۔
اس آزمائشی پروگرام کی کامیابیوں کی بنیاد پر مجوزہ ترمیم میں ہانگ کانگ اور مکاؤ کے وکلاء کے عظیم تر خلیجی علاقے میں وکالت سے متعلق واضح شقیں شامل کی گئی ہیں جس کا مقصد اس خطے میں متعلقہ قانونی خدمات کے باقاعدہ نظام کے لئے قانونی بنیاد فراہم کرنا ہے۔
وکلاء کے قانونی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے مسودے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ عدلیہ، استغاثہ اور عوامی سلامتی کے اداروں سمیت متعلقہ حکام کو وکلاء کے پیشہ ورانہ حقوق کے تحفظ کے نظام کو بہتر بنانا ہوگا اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ ایسے حقوق قانون کے تحت محفوظ رہیں۔


