واشنگٹن (شِنہوا) امریکی سینیٹ نے ایران سے متعلق جنگی اختیارات کی ایک قرارداد منظور کی ہے جس کے تحت صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو کانگریس کی منظوری کے بغیر ایران میں مزید فوجی کارروائیاں کرنے سے روک دیا گیا ہے۔
فروری میں تنازع شروع ہونے سے اب تک یہ پہلا موقع ہے کہ ایسی کوئی قرارداد کانگریس کے دونوں ایوانوں سے منظور ہوئی ہے اور یہ اقدام ٹرمپ کے جنگ سے نمٹنے کے طریقہ کار کی بڑھتی ہوئی مخالفت کی نشاندہی کرتا ہے۔
سینیٹ میں ایران جنگ کے اختیارات سے متعلق قرارداد 48 کے مقابلے میں 50 ووٹوں سے منظور ہوئی جس میں چار ریپبلکن ارکان نے اکثریتی ڈیموکریٹک سینیٹرز کا ساتھ دیا۔ ایک ڈیموکریٹ رکن نے مخالفت میں ووٹ دیا۔
کانگریس کی ویب سائٹ پر شائع کردہ قانون سازی کے خلاصے کے مطابق اس قرارداد میں صدر کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ایران کے خلاف یا ایران کے اندر جاری تمام فوجی کارروائیوں سے امریکی مسلح افواج کو واپس بلائیں، جب تک کہ اس مقصد کے لئے باقاعدہ جنگ کا اعلان یا فوجی طاقت کے استعمال کی منظوری نہ دی گئی ہو۔
یہ قرارداد جنگ کا اعلان کرنے اور فوجی کارروائیوں کے آغاز سے متعلق کانگریس کے آئینی اختیار کی بھی توثیق کرتی ہے۔ قرارداد کے حامیوں کا موقف ہے کہ ایران کے خلاف چھیڑی گئی جنگ ایک غیر مجاز ’اپنی مرضی کی جنگ‘ تھی۔
امریکی میڈیا کے کچھ اداروں نے اس قرارداد کی منظوری کو بڑی حد تک علامتی قرار دیا ہے۔
سی بی ایس نیوز نے رپورٹ کیا کہ قرارداد بڑی حد تک علامتی ہوگی کیونکہ انتظامیہ کا موقف ہے کہ امریکی افواج فی الحال ایران کے ساتھ جنگ میں ملوث نہیں۔
این بی سی نیوز نے نشاندہی کی کہ اس بڑی حد تک علامتی قرارداد کی منظوری ایسے وقت میں ہوئی ہے جب امریکہ اور ایران جنگ کے خاتمے کے لئے مذاکرات کے ابتدائی مراحل میں ہیں۔
تاہم ڈیموکریٹس کا استدلال ہے کہ تنازع ختم کرنے کے لئے امریکہ کی جانب سے معاہدے تک پہنچنے کے بعد بھی ‘جنگی اختیارات کی قرارداد’ کی ضرورت برقرار ہے۔
سی این این کے مطابق سینیٹر ٹم کین نے گزشتہ ہفتے نامہ نگاروں کو بتایا تھا کہ مجھے لگتا ہے کہ یہ ووٹ ڈالنے کا ایک اچھا وقت ہے تاکہ یہ کہا جا سکے کہ اگر ہم واقعی یہاں کچھ استحکام کے دور میں ہیں تو آئیے یہ یقینی بنائیں کہ کانگریس کو شامل کئے بغیر جنگ دوبارہ شروع نہ ہو سکے۔


