دہلی (لارڈ میڈیا) معروف سماجی کارکن اور ماہر تعلیم سونم وانگ چُک کی بھوک ہڑتال کے معاملے پر دہلی ہائی کورٹ میں درخواست دائر کر دی گئی ہے جس میں ان کی فوری طبی امداد کی استدعا کی گئی ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ وانگ چُک کو ضرورت پڑنے پر زبردستی کھانا کھلایا جائے تاکہ ان کی جان بچائی جا سکے۔
سونم وانگ چُک کی بھوک ہڑتال کو اٹھارہ دن ہو چکے ہیں اور ان کی حالت دن بدن بگڑ رہی ہے۔ ان کا یہ احتجاج تعلیمی اصلاحات، نیٹ یو جی پیپر لیک کے معاملے پر کارروائی اور مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کے مطالبے سے متعلق ہے۔
سماجی کارکن اور وکیل راکیش کمار سینی کی جانب سے دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ اگر وانگ چُک نے بھوک ہڑتال جاری رکھی تو ان کی زندگی کو خطرہ ہو سکتا ہے۔ ان کا وزن اب تک 8.5 کلو گرام کم ہو چکا ہے اور بلڈ پریشر 109/70 تک پہنچ گیا ہے۔
عدالت نے مرکز اور دہلی حکومت کو اس معاملے کی سنگینی کے پیش نظر جواب جمع کرانے کا حکم دیا ہے۔ کیس کی باقاعدہ سماعت جمعرات کو ہوگی۔
وانگ چُک نے اپنی بھوک ہڑتال 28 جون کو جنتر منتر پر شروع کی تھی، جس کی حمایت کاکروچ جنتا پارٹی کر رہی ہے۔ تنظیم نے پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے پہلے دن 20 جولائی کو پارلیمنٹ تک مارچ کرنے کا اعلان بھی کیا ہے۔
درخواست گزار نے حکومت پر خاموشی اختیار کرنے اور وانگ چُک کے ساتھ مجرم جیسا سلوک کرنے کا الزام بھی عائد کیا ہے۔ سونم وانگ چُک کا نام فلم ‘3 ایڈیٹس’ کے کردار پھنسوک وانگڈو سے بھی جوڑا جاتا ہے، جو ان کی زندگی اور تعلیمی نظریات سے متاثر تھا۔
سونم وانگ چک نے سوشل میڈیا پر اپنے ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ وہ کوئی ہیرو یا نئے دور کے گاندھی نہیں ہیں، بلکہ ایک عام شہری کے طور پر اپنی ذمہ داری پوری کر رہے ہیں۔


