اسلام آباد (لارڈ میڈیا): سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا ہے کہ شادی کے وقت کسی خاتون کو اس کے والدین، رشتہ داروں، شوہر یا سسرال والوں کی طرف سے اس کے ذاتی استعمال کے لیے دی گئی جائیداد مکمل طور پر اسی کی ملکیت ہوتی ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ جائیداد کی ملکیت کا تعین نام سے نہیں بلکہ منتقلی کی نیت اور دلہن کے خصوصی حق سے ہوتا ہے۔ شوہر یا اس کے خاندان کی طرف سے ایسی جائیداد کو روکنا یا استعمال کرنا بیوی کے مالکانہ حقوق کو غیر قانونی طور پر روکنے کے مترادف ہے، اور وہ فیملی کورٹ کے ذریعے قانونی کارروائی سے اسے واپس حاصل کر سکتی ہے۔ یہ بات جہیز کی واپسی سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران جسٹس شکیل احمد کے تحریری فیصلے میں کہی گئی ہے۔ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے اس کیس کی سماعت کی۔ عدالت نے مدعا علیہ (بیوی) کے دعوے کو درست قرار دیا کہ شادی کے وقت والدین نے اسے 87 تولے سونے کے زیورات تحفے میں دیے تھے۔ عدالتی آرڈر میں کہا گیا کہ ہمارے معاشرتی حقائق میں دلہن کو دیے جانے والے زیورات اکثر مالی تحفظ کی شکل ہوتے ہیں۔


