واشنگٹن (لارڈ میڈیا): امریکی سینیٹرز نے روس کے خلاف پابندیوں کا نیا مسودہ پیش کیا ہے جس میں چین اور بھارت کے لیے توانائی ٹیرف میں نرمی کی گئی ہے۔ نئے بل کے تحت روسی تیل اور گیس کے بڑے خریداروں کے لیے 500 فیصد ٹیرف کو کم کر کے 100 فیصد تک محدود کیا گیا ہے۔
مرحوم سینیٹر لنزے گراہم کے تعاون سے تیار کردہ اس بل کو ریپبلکن اور ڈیموکریٹ سینیٹرز کی حمایت حاصل ہے۔ بل میں روسی حکام پر پابندیاں لگانے کے ساتھ چین اور بھارت پر دباؤ ڈالنے کا بھی ارادہ ہے تاکہ وہ روسی توانائی پر انحصار کم کریں۔
مسودے میں یہ بھی شامل کیا گیا ہے کہ وہ ممالک جو روسی قدرتی گیس کی برآمدات کا 15 فیصد سے کم درآمد کرتے ہیں، انہیں پابندیوں سے استثنا دیا جائے گا۔ جاپان، فرانس، ہنگری اور بیلجیئم اس رعایت سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
بل میں روسی آئل ٹینکروں، مرکزی بینک اور بڑے توانائی منصوبوں پر پابندیاں بھی شامل ہیں۔ صدر کے پاس قومی مفاد میں ان پابندیوں کو معطل کرنے کا اختیار بھی ہوگا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ بل میں ایران اور حزب اللہ کے خلاف پابندیاں شامل کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر رچرڈ بلومینتھل نے موجودہ مسودے کو ہی آگے بڑھانے پر زور دیا ہے۔


