تہران (لارڈ میڈیا): ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کے لیے نئے قوانین کا اعلان کرتے ہوئے خلاف ورزی کرنے والوں پر بھاری جرمانے عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ایرانی خبر رساں ادارے فارس کے مطابق خلاف ورزی کرنے والے جہازوں پر ان کے سامان کی مجموعی مالیت کا 20 فیصد جرمانہ عائد ہوگا۔
ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے ترجمان حسن قشقاوی نے کہا ہے کہ کمیٹی نے آبنائے ہرمز سے متعلق مجوزہ قانون کی بعض شقوں کی منظوری دی ہے۔ ان کے مطابق، خلاف ورزی کرنے والے جہازوں کو جرمانہ ادا کرنے تک عارضی طور پر تحویل میں لیا جا سکے گا۔
یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی آمدورفت میں نمایاں کمی دیکھی جا رہی ہے۔ رائٹرز کے مطابق 21 ستمبر کو صرف دو بڑے تجارتی جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے، جبکہ تنازع سے قبل روزانہ اوسطاً 125 بڑے تجارتی جہاز اس اہم بحری راستے سے گزرتے تھے۔
آبنائے ہرمز خلیج فارس سے عالمی منڈیوں تک تیل اور توانائی مصنوعات کی ترسیل کے لیے ایک اہم بحری راستہ ہے۔ ایران کے نئے ضوابط اور جرمانوں کا اعلان اس وقت سامنے آیا ہے جب اس راستے کی سکیورٹی اور تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت پہلے ہی عالمی سطح پر توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔


