نیویارک (لارڈ میڈیا): سعودی عرب، مصر، پاکستان اور ترکیہ نے مشرق وسطیٰ میں امن کے فروغ کے لئے مذاکرات اور سفارت کاری کو واحد حل قرار دیا ہے۔ چاروں ممالک کے وزرائے خارجہ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر مشاورتی اجلاس کیا جس میں علاقائی اور عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
اجلاس کے بعد جاری مشترکہ اعلامیے میں خطے میں امن، سلامتی، استحکام اور خوشحالی کے لئے چاروں ممالک کے درمیان مشاورت اور رابطے جاری رکھنے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ خطے میں جاری کشیدگی اور جنگی کارروائیوں پر گہری تشویش ہے اور پائیدار حل کے لئے مذاکرات اور سفارت کاری ہی واحد راستہ ہے۔ اس تناظر میں دیرپا امن اور استحکام کے لئے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر عملدرآمد کی ضرورت پر زور دیا گیا۔
چاروں ممالک نے سعودی عرب کے خلاف تمام حملوں، بالخصوص حالیہ حوثی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سلامتی کے لئے اپنی حمایت کا اعادہ کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ سعودی عرب کو بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے منشور کے مطابق اپنے دفاع، اپنی سرزمین اور عوام کے تحفظ کا حق حاصل ہے۔
وزرائے خارجہ نے یمن کی جائز حکومت اور صدارتی قیادت کونسل کی بھی حمایت کا اعادہ کیا اور کہا کہ یمن میں سلامتی، استحکام اور ترقی کے لئے سیاسی عمل اور مختلف فریقوں کے درمیان جامع یمنی، یمنی مذاکرات ضروری ہیں۔ فلسطین کے معاملے پر چاروں ممالک نے فلسطینی عوام کے جائز حقوق، بشمول حق خودارادیت، کی حمایت کا اعادہ کیا۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ فلسطینی عوام کو 4 جون 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر مشرقی بیت المقدس کو دارالحکومت بناتے ہوئے ایک آزاد، خودمختار، قابل عمل اور متصل فلسطینی ریاست کے قیام کا حق حاصل ہے۔ سعودی عرب، مصر، پاکستان اور ترکیہ نے سوڈان کی خودمختاری، وحدت اور آزادی کی حمایت بھی دہرائی اور اس کے جائز قومی اداروں کے تحفظ پر زور دیا۔


