لاہور (لارڈ میڈیا): لاہور ہائیکورٹ نے سرگودھا دربار قتل کیس میں چار مجرموں کی سزائے موت برقرار رکھی ہے۔ عدالت نے مجرمان کی اپیلیں مسترد کرتے ہوئے 20 بار سزائے موت کا فیصلہ برقرار رکھا۔
دو رکنی بینچ جسٹس شہباز رضوی کی سربراہی میں 25 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کیا گیا جس میں پراسکیوٹر راحیلہ شاہد نے حکومت کی جانب سے دلائل پیش کیے۔ عدالت نے کہا کہ جرم کی ہولناکی کے باوجود فیصلہ شواہد کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔
فیصلے کے مطابق، ایف آئی آر کے فوری اندراج اور پولیس کی بروقت کارروائی نے استغاثہ کے مؤقف کو مضبوط بنایا۔ زخمی گواہ کے بیان کو اہمیت دیتے ہوئے عدالت نے کہا کہ مجرموں کے خلاف کوئی جھوٹا مقدمہ ثابت نہیں ہوا۔
ڈی این اے اور فرانزک شواہد نے ملزمان کو جرم سے منسلک کیا، فرانزک رپورٹ کے مطابق مقتولین کو نشہ آور مشروبات پلا کر بے ہوش کیا گیا۔ قتل کی وجہ دربار کی گدی نشینی کا تنازع تھا۔
عدالت نے کہا کہ مجرمان کا انکار مضبوط شواہد کو رد نہیں کرسکتا، انسداد دہشت گردی ایکٹ کا اطلاق درست تھا اور اجتماعی قتل جیسے جرم میں سخت سزا ضروری ہے۔ مجرموں کے خلاف مقدمہ 2 اپریل 2017 کو درج اور انسداد دہشت گردی عدالت نے 3 دسمبر 2019 کو سزا سنائی۔


