اسلام آباد (لارڈ میڈیا) وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے ایف ایم سن گروپ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر جیک چن کی قیادت میں وفد کے ساتھ ملاقات کی۔ اس ملاقات کا مقصد پاکستان کے زرعی شعبے میں جدیدیت، اناج ذخیرہ، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور سرمایہ کاری کے مواقع پر تبادلہ خیال کرنا تھا۔
وفاقی وزیر نے وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان چین کے ساتھ اپنی دیرینہ دوستی کو بہت اہمیت دیتا ہے اور چینی کمپنیوں کے پاکستان کی اقتصادی اور زرعی صلاحیت پر اعتماد کو سراہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعاون ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، جس میں زرعی ترقی، صنعتی تعاون، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور ویلیو ایڈیشن پر زور دیا جا رہا ہے۔
رانا تنویر حسین نے ایف ایم سن کی پاکستان کے زرعی شعبے میں دو دہائیوں کی خدمات کو سراہا اور کمپنی کو طویل مدتی سرمایہ کاری اور اسٹریٹجک شراکت داری کے ذریعے پاکستان میں اپنی شمولیت کو مزید بڑھانے کی ترغیب دی۔
وزیر نے پاکستان کے اناج ذخیرہ ڈھانچے کو مضبوط کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور ایف ایم سن کو ملک بھر میں جدید سائلوز کے قیام کی دعوت دی۔ انہوں نے کہا کہ بہتر سائنسی ذخیرہ سہولیات فصل کے بعد کے نقصانات کو کم کرنے، غذائی تحفظ کو بڑھانے اور زرعی اجناس کی محفوظ حفاظت کو یقینی بنانے میں مددگار ثابت ہوں گی۔
ملاقات کے دوران دونوں فریقین نے جدید اناج ذخیرہ نظام کی ترقی، زرعی پروسیسنگ کے بنیادی ڈھانچے کی توسیع اور جدید زرعی ٹیکنالوجیز کے تعارف جیسے اہم شعبوں میں تعاون پر تبادلہ خیال کیا۔
ایف ایم سن کے وفد نے پاکستان کی زرعی جدیدیت اور سرمایہ کاری کی سہولت کے لیے حکومت کے عزم کی تعریف کی اور پاکستان کے ساتھ قریبی تعاون کے عزم کا اظہار کیا۔ دونوں فریقین نے مستقبل کے تعاون کے لئے عملی تجاویز تیار کرنے پر اتفاق کیا۔


