اسلام آباد (لارڈ میڈیا): گزشتہ 48 گھنٹوں میں اسلام آباد، بلوچستان، سندھ اور اسلام آباد ہائیکورٹس میں 19 ایڈیشنل ججز کی تعیناتی ہوئی جن میں سے 18 ججز متعلقہ ہائی کورٹس کے چیف جسٹس کے نامزد کردہ تھے۔
26 ویں اور 27 ویں آئینی ترامیم کے بعد عدلیہ پر تنقید کی جاتی رہی کہ ایگزیکٹو کا ججز تقرری کے عمل میں اثر بڑھ گیا ہے، تاہم حالیہ تعیناتیاں ان امیدواروں کی ہوئیں جنہیں متعلقہ ہائیکورٹس کے چیف جسٹس صاحبان نے نامزد کیا۔
لاہور ہائی کورٹ کی چیف جسٹس عالیہ نیلم کے نامزد کردہ 10 امیدواروں اور بلوچستان ہائی کورٹ کے نامزد کردہ تین امیدواروں کو ایڈیشنل جج تعینات کیا گیا۔
اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کے نامزد کردہ تین ججز کی تعیناتی کی سفارش کی گئی، جبکہ چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ کے نامزد کردہ دو امیدواروں کو بھی تعینات کیا گیا۔ قانونی ماہرین کی اس عمل پر منقسم رائے پائی جاتی ہے۔
ایڈووکیٹ کامران مرتضی نے کہا کہ عدلیہ کا ماضی کا نظام بھی ٹھیک نہیں تھا اور موجودہ نظام سے انصاف کی امید کی جاسکتی ہے۔ ایڈووکیٹ حافظ احسان کھوکھر نے کہا کہ ججز کی نامزدگی چیف جسٹس صاحبان کی جانب سے ہوئی ہے، جبکہ ایڈووکیٹ صلاح الدین نے جوڈیشل کمیشن کی کمپوزیشن پر سوال اٹھایا۔


