ہومتازہ تریننوآبادیاتی ورثہ اور پنجاب کا تعلیمی زوال

نوآبادیاتی ورثہ اور پنجاب کا تعلیمی زوال

قوموں کی تقدیر صرف میدانِ جنگ میں نہیں، بلکہ درسگاہوں میں بھی لکھی جاتی ہے۔ جب کوئی قوم اپنی زبان، اپنی تہذیب، اپنے علمی سرمائے اور اپنے تعلیمی اداروں سے محروم ہو جائے تو اس کی سیاسی آزادی بھی ادھوری رہ جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نوآبادیاتی نظام نے جہاں فوجی طاقت استعمال کی، وہاں ذہنی اور تعلیمی تسلط کو بھی اپنی حکمتِ عملی کا بنیادی ستون بنایا۔

1849ء میں پنجاب پر برطانوی قبضے کے بعد یہاں کے مقامی تعلیمی نظام میں نمایاں تبدیلیاں رونما ہوئیں۔ اس دور کے ممتاز مستشرق اور ماہرِ تعلیم گوٹلیب ولیم لیٹنر نے پنجاب کے روایتی تعلیمی ڈھانچے کا تفصیلی مطالعہ کیا۔ اپنی معروف تصنیف History of Indigenous Education in the Panjab میں انہوں نے اس حقیقت کا اعتراف کیا کہ پنجاب کے دیہات اور قصبات میں مقامی مدارس، مکتب، گورمکھی، فارسی، عربی اور سنسکرت کی تعلیم کا ایک وسیع اور فعال نظام موجود تھا، جس نے صدیوں تک علمی روایت کو زندہ رکھا۔

اگرچہ بعض حلقوں میں یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ اس وقت پنجاب میں شرحِ خواندگی سو فیصد تھی، لیکن مستند تاریخی ریکارڈ اس دعوے کی مکمل تائید نہیں کرتے۔ تاہم اس میں کوئی شبہ نہیں کہ مقامی سطح پر تعلیم کی رسائی، دینی و روایتی علوم کا فروغ اور زبانوں کا تنوع آج کے تصور سے کہیں زیادہ مضبوط تھا۔

برطانوی حکومت نے انتظامی ضروریات کے تحت انگریزی زبان، جدید بیوروکریسی اور نئے تعلیمی نصاب کو رائج کیا۔ اس تبدیلی کے نتیجے میں عربی، فارسی، گورمکھی اور سنسکرت جیسے علمی ذخائر بتدریج پس منظر میں چلے گئے۔ تعلیم کا مقصد بھی کردار سازی اور تہذیبی تربیت سے زیادہ سرکاری ملازمین کی تیاری بن گیا۔ یہی وہ مرحلہ تھا جہاں مقامی علمی روایت اور نوآبادیاتی تعلیمی نظام کے درمیان ایک واضح خلیج پیدا ہوئی۔

اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ نوآبادیاتی نظام نے ایک ایسا تعلیمی ڈھانچہ تشکیل دیا جس میں مقامی زبانیں، مقامی تاریخ اور تہذیبی شعور بتدریج کمزور ہوتے گئے۔ اس کے اثرات صرف انیسویں صدی تک محدود نہیں رہے بلکہ آزادی کے بعد بھی ہم اسی نظام کی بڑی حد تک تقلید کرتے رہے۔

آج سوال صرف تاریخ کا نہیں بلکہ مستقبل کا ہے۔ کیا ہم ایسی تعلیم دے رہے ہیں جو نوجوانوں کو اپنی شناخت، اپنی تہذیب اور اپنی قومی ذمہ داری سے جوڑ سکے؟ کیا ہماری جامعات تحقیق، تخلیق اور تنقیدی فکر کی آبیاری کر رہی ہیں یا صرف ڈگریوں کی تقسیم تک محدود ہو چکی ہیں؟ کیا ہماری مادری زبانیں علم و تحقیق کی زبان بن رہی ہیں یا صرف گھریلو گفتگو تک محدود ہوتی جا رہی ہیں؟

تعلیم کبھی محض نصاب کا نام نہیں ہوتی؛ یہ تہذیب، اقدار، قومی خود اعتمادی اور فکری آزادی کا مجموعہ ہوتی ہے۔ جو قومیں اپنی زبان، اپنی تاریخ اور اپنے فکری ورثے کو فراموش کر دیتی ہیں، وہ ترقی کی دوڑ میں بھی دوسروں کی محتاج رہتی ہیں۔

ہمیں تاریخ کو جذبات کی نہیں بلکہ تحقیق کی روشنی میں پڑھنا ہوگا۔ نہ ہر روایت کو بلا تحقیق قبول کرنا دانش مندی ہے اور نہ ہر تاریخی حقیقت کو محض اس لیے رد کر دینا مناسب ہے کہ وہ ہمارے مروجہ تصورات سے مختلف ہے۔ قوموں کی تعمیر تحقیق، دیانت اور متوازن شعور سے ہوتی ہے۔

میریے نزدیک آج ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان کا تعلیمی نظام جدید سائنس اور ٹیکنالوجی کے ساتھ ساتھ اپنی تہذیبی شناخت، قومی زبانوں، اسلامی فکری روایت اور مقامی علمی سرمایہ کو بھی مساوی اہمیت دے۔ یہی وہ راستہ ہے جو ایک خوددار، باوقار اور علم دوست معاشرے کی بنیاد رکھ سکتا ہے۔

تاریخ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ جو قومیں اپنی درسگاہوں کو مضبوط بناتی ہیں، وہ اپنی ریاست کو بھی مضبوط بناتی ہیں، اور جو قومیں اپنی علمی میراث سے رشتہ توڑ لیتی ہیں، وہ بالآخر اپنی شناخت سے بھی محروم ہو جاتی ہیں۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں