ہومتازہ ترینسنکیانگ، نئی ٹیکنالوجی نے صحرا کے ایک حصے کو زرعی زمین میں...

سنکیانگ، نئی ٹیکنالوجی نے صحرا کے ایک حصے کو زرعی زمین میں تبدیل کر دیا

کیا صحرا میں گندم اگائی جا سکتی ہے؟

چین کے تکلیمکان صحرا کے جنوبی کنارے پر واقع شہر ’’ کُون یُو ‘‘ میں اس سوال کا جواب "ہاں” میں ملتا ہے۔

یہاں موسمِ سرما کی گندم کے وسیع کھیت اب کٹائی کے مرحلے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ اردگرد پھیلی ریت کے ساتھ یہ کھیت ایک دلکش منظر پیش کر رہے ہیں۔

یہاں ہوا کے ساتھ اڑنے والی ریت سب سے بڑے چیلنجز میں سے ایک ہے جو نئی اُگنے والی فصلوں کو نقصان بھی پہنچا سکتی ہے۔

اس مسئلے سے نمٹنے کے لئے کسان بڑے مرکزی محور پر گھومنے والے آبپاشی نظام استعمال کرتے ہیں۔یہ نظام کھیتوں تک پانی پہنچانے کے ساتھ ساتھ گردوغبار کو کم کرنے اور مٹی کو مستحکم بنانے میں بھی مدد دیتے ہیں۔

ساؤنڈ بائٹ 1 (چینی): سوئی گانگ چھوانگ، نگران، گندم کاشت

’’یہ آبپاشی نظام اڑنے والی ریت کو کم کرنے اور فصلوں کے تحفظ میں مدد دیتا ہے۔ اس سے نمی میں بھی اضافہ ہوتا ہے جو گندم کی بہتر نشوونما کے لئے مفید ہے۔‘‘

کھیتوں کے لئے پانی کُون لُون پہاڑوں کی برف پگھلنے سے حاصل ہوتا ہے جسے زرعی زمین تک پہنچانے سے پہلے فلٹر بھی کیا جاتا ہے۔

یہ تبدیلی گندم کے علاوہ فصلوں میں بھی آ رہی ہے۔ مقامی کسان مٹی کے بہتر انتظام اور پانی بچانے والی جدید ٹیکنالوجیز کے ذریعے چاول اور دیگر فصلوں کو بھی کامیابی کے ساتھ کاشت کر رہے ہیں۔

ساؤنڈ بائٹ 2 (چینی): ژانگ ژینگ چیان، چاول کا کاشتکار

’’کبھی بنجر رہنے والی یہ زمین اب پیداوار دینے والے زرعی رقبے میں تبدیل ہو چکی ہے۔ جو کامیابی ہمیں ملی ہے ہمیں اس پر فخر ہے۔‘‘

ساؤنڈ بائٹ 3 (چینی): شیاؤ ہان، نگران، ارنڈی کی کاشت

’’قابلِ کاشت بنائی گئی زمین پر ہم ارنڈی کے پودے اگاتے ہیں۔ ارنڈی ایک ایسا پودا ہے جو خشک سالی اور کھاری مٹی برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس مضبوط فصل کی کاشت اس علاقے کے لئے بالکل موزوں ہے۔‘‘

ارمچی، چین سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں