ہوماہم ترینخراب شہرت رکھنے والا جج عدالتی منصب پر برقرار نہیں رہ سکتا،...

خراب شہرت رکھنے والا جج عدالتی منصب پر برقرار نہیں رہ سکتا، سپریم کورٹ

اسلام آباد (لارڈ میڈیا): سپریم کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں کہا ہے کہ خراب شہرت رکھنے والا جج عدالتی منصب پر برقرار نہیں رہ سکتا۔ عدالت نے کہا کہ جج کے لیے صرف بے گناہی نہیں بلکہ بے داغ کردار بھی ضروری ہے۔ جسٹس شاہد وحید کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج وہاڑی محمد افضل زاہد کی برطرفی کا فیصلہ بحال کر دیا ہے۔

سپریم کورٹ نے کہا کہ جج کی دیانت داری اور ساکھ اہم ہوتی ہے۔ جج کے فیصلوں کو عوامی ذہن میں داغ دار نہ ہونا چاہیے۔ عدالت نے کہا کہ جج کی خراب شہرت عدلیہ کی ساکھ متاثر کرتی ہے اور عوام کا اعتماد کھونا عدلیہ کے مفادات کے منافی ہے۔

فیصلے میں کہا گیا کہ بدنام یا کرپٹ جج کو عہدے سے ہٹانے پر عدلیہ صحت یاب ہونا شروع ہوجاتی ہے کیونکہ مخصوص ٹیومر کو الگ کر دیا جاتا ہے۔ عدالت نے مزید کہا کہ جج کی خراب شہرت عدلیہ کے پورے ڈھانچے تک اثر انداز ہوتی ہے۔

عدالت نے جج کی برطرفی کا محکمہ کارروائی کا 6 مئی 2013ء کا فیصلہ بحال کر دیا۔ سپریم کورٹ نے جج کی سروس ٹریبونل کے جبری ریٹائرمنٹ کا حکم کالعدم قرار دے دیا۔ عدالت نے کہا کہ عدلیہ میں کردار اور شہرت قانونی اہلیت جتنی اہم ہیں۔

الزام تھا کہ ایڈیشنل اینڈ سیشن جج نے غیر قانونی مراعات حاصل کیں۔ متعلقہ اتھارٹی نے جج کے عمل کی نگرانی کی اور رپورٹ میں بتایا گیا کہ جج کی عدلیہ میں اچھی شہرت نہیں ہے۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ ناقص تحقیقات کے نتیجے پر مداخلت نہیں کی جا سکتی۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں