چین کے مین لینڈ کی منڈی میں موجود وسیع امکانات نے تائیوان کی کاروباری کمپنیوں کو سرمایہ کاری بڑھانے کی جانب متوجہ کیا ہے۔
تائیوان کی بایوٹیکنالوجی کمپنی ’لِیہ پاؤ لائف سائنس‘ نے سال 2016 سے چین کے مین لینڈ کے شہروں شین زین اور شیامن میں اپنی سرمایہ کاری کی رفتار مزید تیز کر دی ہے۔
ساؤنڈ بائٹ (چینی): لی مِنگ ہوئی، جنرل منیجر، لِیہ پاؤ لائف سائنس (شیامن) بایوٹیکنالوجی کمپنی لمیٹڈ
’’اس وقت ہمارا منصوبہ شین زین میں چل رہا ہے جہاں ہم نے 3 کروڑ امریکی ڈالر کی ابتدائی سرمایہ کاری کی ہے۔ ہم پالتو جانوروں کا ایک جامع کمپلیکس تعمیر کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں جس میں پالتو جانوروں کا ہسپتال، ویٹرنری ادویات تیار کرنے کا کارخانہ اور پالتو جانوروں کی تربیت کے میدان شامل ہوں گے۔ یہ مرکز پالتو جانوروں سے متعلق تمام معاون شعبوں پر مشتمل ایک مکمل اور مربوط صنعتی ماحولیاتی نظام تشکیل دے گا۔
پریسیژن میڈیسن (درست اور ہدفی علاج) کے شعبے میں ہم شیامن یونیورسٹی کی فرسٹ افیلی ایٹڈ ہسپتال کے ساتھ تقریباً ایک کروڑ امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری سے ایک مشترکہ تجربہ گاہ قائم کریں گے۔ یہ تجربہ گاہ اسٹیم سیلز کے منجمد تحفظ (کرائیو پریزرویشن)، اسٹیم سیل تھراپی اور مستقبل میں تحقیق و ترقی کے ساتھ ساتھ ان طبی تحقیقات کو عملی علاج میں منتقل کرنے سے متعلق شعبوں میں بھی تحقیق کرے گی۔
بایو میڈیسن کا شعبہ بلاشبہ آئندہ برسوں میں پورے مین لینڈ میں سرمایہ کاری کے اہم ترین شعبوں میں شامل ہو جائے گا۔ ہمیں مین لینڈ کی منڈی خصوصاً یہاں کی مضبوط صنعتی ترقی اور رسد کے مکمل نظام پر پر پورا اعتماد ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم اپنی سرمایہ کاری کا سلسلہ جاری رکھیں گے اور یہاں اپنی طویل مدتی موجودگی کو مزید مستحکم بنائیں گے۔‘‘
شیامن، چین سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ


