اسلام آباد (شِنہوا) پاکستان اور چین کے سفارتی تعلقات کے قیام کی 75ویں سالگرہ کے موقع پر دونوں ملکوں کی لازوال دوستی کے جشن کے طور پر پشاور میں دریائے کابل کے کنارے ایک رنگا رنگ ڈریگن کشتی میلے کا انعقاد کیا گیا۔
پشاور میں قائم چینی ثقافتی مرکز، چائنہ ونڈو کے زیر اہتمام منعقدہ اس تقریب میں سرکاری حکام، کھلاڑیوں، ثقافتی فنکاروں اور مقامی و چینی برادری کے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
اس موقع پر خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی برائے ثقافت، سیاحت اور آثار قدیمہ ملک عادل اقبال نے دونوں ممالک کے عوام کے درمیان مضبوط تعلقات کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ چین اور پاکستان کی دوستی گزشتہ کئی دہائیوں سے چٹان کی مانند مضبوط اور ناقابل شکست رہی ہے۔
اقبال نے کہا کہ اس تقریب نے نہ صرف صوبے کا مثبت تشخص دنیا کے سامنے پیش کیا بلکہ یہ تقریب مستقبل میں ملک میں سیاحت کے فروغ میں بھی مددگار ہوگی۔
مقامی کاروباری شخصیت مسعود خان نے کہا کہ اس میلے نے دریائے کابل کو جوش و خروش اور ثقافتی اظہار کے ایک دلکش مرکز میں تبدیل کر دیا، جہاں شائقین نے چین کی محبوب ترین روایات میں سے ایک کو قریب سے محسوس کیا۔
انہوں نے کہا کہ ڈریگن کشتیوں کی ہم آہنگ اور پر اثر حرکت تہوار کے خوشگوار ماحول کے ساتھ مل کر ایک منفرد منظر پیش کر رہی تھی جس نے ثقافتی تبادلے کے حسن کو نمایاں کیا۔
تقریب کے منتظمین کے مطابق کشتی رانی کے مقابلوں میں 100 سے زائد کھلاڑیوں نے حصہ لیا، جنہیں مختلف ٹیموں میں تقسیم کیا گیا تھا۔
مسعود خان کا کہنا تھا کہ یہ جشن دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات کی عکاسی کرتا ہے اور اس بات کا مظہر ہے کہ ثقافتی سفارت کاری باہمی افہام و تفہیم اور تعاون کو کس طرح مضبوط بنا سکتی ہے۔
تقریب میں شریک ایک اور شخص سہیل احمد نے کہا کہ ڈھول کی تھاپ پر کشتیوں کی پرجوش پیش قدمی نے ایک سنسنی خیز اور متاثر کن منظر پیدا کر دیا جسے شائقین حیرت و مسرت کے ساتھ دیکھتے رہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ میلہ محض ایک تقریب نہیں تھا بلکہ رنگا رنگ ثقافتی مظاہروں اور پرجوش حاضرین کی موجودگی میں یہ اتحاد، باہمی احترام اور پائیدار دوستی کا جشن بن گیا۔
چائنہ ونڈو کے منتظم امجد عزیز ملک نے کہا کہ ڈریگن کشتی میلے نے نہ صرف پاکستان میں چین کی ایک قدیم ثقافتی روایت کو متعارف کرایا بلکہ دونوں ممالک کے عوام کو ایک دوسرے کے مزید قریب لانے میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم آئندہ برسوں میں بھی مزید ایسے میلے منعقد کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں تاکہ پاکستان اور چین کے درمیان دیرپا دوستی کو مزید مضبوط کیا جا سکے۔


