لندن (شِنہوا) برطانیہ، فرانس، جرمنی اور اٹلی کے رہنماؤں نے مشترکہ بیان میں امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والے امن معاہدے کا خیرمقدم کیا ہے۔
بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ علاقائی استحکام بحال کرنے اور عالمی معیشت کو مستحکم کرنے کا ایک اہم موقع ہے۔
یورپی ممالک نے اس بات پر زور دیا کہ ایران کو کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے چاہئیں تاہم انہوں نے کہا کہ اگر ایران اپنے جوہری پروگرام سے متعلق واضح اور قابل تصدیق اقدامات کرتا ہے تو وہ متعلقہ پابندیاں اٹھانے کے لئے تیار ہیں۔
یورپی رہنماؤں نے زور دیا کہ امریکہ اور ایران کے معاہدے کو جلد اور مکمل طور پر نافذ کیا جائے اور آبنائے ہرمز کو فوری طور پر کھولنا اور وہاں بغیر کسی رکاوٹ اور ٹول کے آزادانہ بحری آمدورفت نہایت ضروری ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ وہ امریکہ، ایران اور علاقائی شراکت داروں کے ساتھ مل کر اس موقع سے فائدہ اٹھانے، پیش رفت برقرار رکھنے اور طویل المدتی سفارتی حل کے لئے کام کریں گے۔
برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے اس معاہدے کو انتہائی اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے اس کے مکمل نفاذ خصوصاً آبنائے ہرمز میں آزادانہ بحری آمدورفت کی بحالی پر زور دیا تاکہ دنیا بھر میں کئی ماہ سے جاری شدید معاشی اثرات کم کئے جا سکیں۔
انہوں نے ڈاؤننگ سٹریٹ سے جاری ایک بیان میں کہا کہ توجہ اب اس مفاہمتی یادداشت پر مکمل عملدرآمد پر ہونی چاہیے تاکہ آبنائے ہرمز مستقل اور مکمل طور پر کھل جائے اور جوہری معاہدے کی تفصیلی شقیں بھی حتمی شکل اختیار کریں۔
فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے بھی اس معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے پیر کو ایکس پر کہا کہ فرانس اور برطانیہ کی قیادت میں ایک کثیرملکی بحری مشن آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے میں مدد دینے کے لئے تیار ہے۔
میکرون نے کہا کہ تمام وسائل دستیاب ہیں اور تعیناتی کے لئے تیار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بغیر کسی رکاوٹ یا ٹول کے بحری آمدورفت کی بحالی علاقائی استحکام اور عالمی معیشت کے لئے بنیادی شرط ہے۔
انہوں نے تمام فریقوں سے اپیل کی کہ امن معاہدے پر جلد اور مکمل عملدرآمد کیا جائے۔


