تائیوان سے تعلق رکھنے والی نوجوان کاروباری شخصیت کوو یی فان گزشتہ ایک دہائی سے چین کے مین لینڈ میں کافی کے کاروبار سے وابستہ ہیں۔
ساؤنڈ بائٹ 1 (چینی): کوو یی فان، تائیوان کی کاروباری شخصیت
’’میرا تعلق تائیوان کے شہر تائی چونگ سے ہے۔ میں سال 2016 میں اپنا کاروبار شروع کرنے کے لئے فوژو آیا تھا۔ اس سے پہلے جب میں تائیوان میں کافی کے کاروبار سے وابستہ تھا تو مجھے جلد ہی ایک ایسی منڈی کا سامنا کرنا پڑا جہاں مقابلہ بہت سخت تھا۔ تقریباً ہر شخص کافی پی رہا تھا اور مجھے محسوس ہوا کہ اس منڈی میں مزید وسعت کی گنجائش بہت کم رہ گئی ہے۔
پھر میں نے سوچا کہ شاید مجھے کسی بڑی منڈی میں جا کر اپنی قسمت آزمانی چاہئے۔ اسی سوچ کے تحت میں نے صوبہ فوجیان کے شہر فوژو کا انتخاب کیا۔
پہلی وجہ یہ تھی کہ یہاں کا کھانا اور رہن سہن کا ماحول تائیوان سے کافی حد تک ملتا جلتا ہےجبکہ دوسری وجہ فوژو کی قدیم اور روایتی عمارتوں خصوصاً سان فانگ چی شیانگ (تین گلیاں اور سات کوچے) سے میری گہری دلچسپی ہے۔
پہلے لوگ یہ سمجھتے تھے کہ ان قدیم گھروں میں صرف چائے پینا اور گپ شپ کرنا ہی ممکن ہے۔ لیکن میں نے سوچا کہ کیوں نہ کافی جیسی مغربی ثقافت کو یہاں متعارف کرایا جائے اور اسے قدیم طرزِ تعمیر کے ساتھ یکجا کیا جائے۔ اس طرح مشرقی اور مغربی ثقافتوں کا ایک منفرد اور دلچسپ امتزاج پیدا کیا جا سکتا ہے۔‘‘
کوو یی نہ صرف کافی بناتے ہیں بلکہ کافی کی صنعت سے متعلق مختلف جدتوں اور منصوبوں پر بھی کام کر رہے ہیں۔
ساؤنڈ بائٹ 2 (چینی): کوو یی فان، تائیوان کی کاروباری شخصیت
’’ہم نے ایک ایسی تکنیک استعمال کی ہے جس کے ذریعے فوژو کے یاسمین کے پھول براہِ راست کافی کے دانوں میں شامل کئے جاتے ہیں۔ امید ہے کہ رواں برس ہم ان کی بڑے پیمانے پر پیداوار شروع کر سکیں گے اور اسے فوژو کی کافی صنعت کی ایک نمایاں ثقافتی علامت بنا سکیں گے۔
ہم بہت سی کافی شاپس کو کافی کے دانے فراہم کرتے ہیں۔ اس دوران ہمیں احساس ہوا کہ متعدد کافی شاپس میں کوئی تربیت یافتہ باریستا (کافی تیار اور پیش کرنے کا ماہر ) موجود نہیں۔
اس وقت ہم نے باریستا کی پیشہ ورانہ مہارت کے معیار اور سرٹیفکیشن نظام کی تیاری شروع کی جس میں پورے ڈھانچے کی تشکیل اور امتحانی سوالات کا ذخیرہ تیار کرنا شامل تھا۔ہم نے فوجیان کے صوبائی محکمہ انسانی وسائل کے ساتھ مل کر ان اقدامات کو آگے بڑھایا۔
ہم ہر ماہ ایک تربیتی سیشن منعقد کرتے ہیں اور اب تک ایک ہزار سے زائد افراد کو تربیت فراہم کر چکے ہیں۔
آج کے نوجوانوں کے لئے کافی پینا صرف ایک عادت نہیں بلکہ یہ سماجی میل جول کا بھی ایک اہم ذریعہ ہے۔مجھے یقین ہے کہ کافی شاپس مزید متنوع ہوتی جائیں گی اور وقت کے ساتھ ساتھ ان میں مسلسل بہتری آئے گی۔
میں یہ بھی امید کرتا ہوں کہ تائیوان کے لوگ زیادہ بار یہاں آئیں، فوژو کی پُرسکون کافی ثقافت کو قریب سے دیکھیں اور اس کا تجربہ کریں۔‘‘
فوژو، چین سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ


