منسک (شِنہوا) چین اور بیلاروس کے نمائندوں نے منسک میں منعقد ہونے والی چینی چائے کی ثقافت سے متعلق ایک تقریب میں شرکت کی، جہاں وہ چائے سے بھرپور ماحول میں چینی ثقافت، فن اور روایات سے لطف اندوز ہوئے۔
"ٹی فار ہارمنی 2026” کے عنوان سے منعقدہ تقریب میں شرکاء ہینان سونگ اینڈ ڈانس پرفارمنس گروپ، ہینان ایکروبیٹکس گروپ، بیلاروس کے اسٹیٹ اکیڈمک ڈانس اینسمبل اور دیگر فنکارانہ گروپوں کی رنگا رنگ پرفارمنس سے لطف اندوز ہوئے۔
شرکاء نے مختلف ثقافتی نمائشوں کا مشاہدہ کیا جن میں شن یانگ ماؤ جیان سبز چائے، شون شیان کاؤنٹی کے روایتی لوک کھلونے "وانفو ٹائیگرز” اور ژو شیان ٹاؤن شپ کے لکڑی سے بنے نئے سال کے پرنٹس شامل تھے۔ اس کے علاوہ کچھ افراد نے خطاطی، کاغذ کی کٹائی، مصوری اور گرہیں باندھنے کی ورکشاپس میں بھی حصہ لیا۔
کھانوں کے میلے میں چین کے لذیذ کھانے پیش کئے گئے جن میں رو جیا مو (گوشت سے بھرا فلیٹ بریڈ)، شیاؤ لونگ باؤ (بھاپ میں پکے سوپ سموسے) اور تانگ ہولو (چینی کی چاشنی میں لپٹے بیری نما پھل) شامل تھے۔
بیلاروس میں چینی سفیر ژانگ وین چھوان نے کہا کہ چین، جو چائے کی جائے پیدائش ہے، نے اس قدیم مشروب کو اپنی روزمرہ زندگی، آداب اور روحانی دنیا کا حصہ بنا لیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم چائے پیتے ہیں اور ساتھ ہی سکون، رواداری اور باہم سیکھنے کے ایک خاص احساس سے جڑ جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چائے کی خوشبو ہمیشہ آپ کی یادوں میں تازہ رہے اور چین اور بیلاروس کی دوستی میں ایک نیا باب رقم کرے۔
منسک سٹی ایگزیکٹو کمیٹی کے فرسٹ ڈپٹی چیئرمین الیگزینڈر کومینڈنٹ نے کہا کہ چائے نہ صرف ایک قدیم مشروب ہے بلکہ چینی ثقافت کا ایک اہم حصہ بھی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس تقریب میں ہم سب چینی روایات کو قریب سے دیکھیں گے، اس کے عناصر سے لطف اندوز ہوں گے، خوش ذائقہ اور خوشبودار چینی چائے چکھیں گے، اندرونی توازن حاصل کریں گے اور ایک دوسرے کے مزید قریب آئیں گے۔
یہ تقریب چین کی وزارت ثقافت و سیاحت، بیلاروس میں چینی سفارت خانے اور منسک سٹی ایگزیکٹو کمیٹی کے اشتراک سے منعقد ہوئی، جس میں منسک میں موجود چینی ثقافتی مرکز، صوبہ ہینان کے ثقافتی و سیاحتی محکمے اور منسک سٹی کے ثقافتی محکمے نے بھی معاونت فراہم کی۔


