تہران (لارڈ میڈیا) ایران کے نائب صدر اول محمد رضا عارف نے کہا ہے کہ ملک کو مزید اقتصادی دباؤ، پابندیوں اور مہنگائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے امریکا اور اسرائیل پر الزام لگایا کہ انہوں نے ایران کے خلاف معاشی جنگ شروع کردی ہے۔
عارف نے مارکیٹ ریگولیشن ہیڈکوارٹرز کے اجلاس میں کہا کہ مخالفین فوجی محاذ پر ناکامی کے بعد معاشی دباؤ بڑھا رہے ہیں، تاکہ ایرانی معیشت کو کمزور کیا جا سکے اور مہنگائی کے ذریعے سماجی بے چینی پیدا کی جا سکے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے اقتصادی دباؤ میں اضافہ ایرانی عوام کو مشکلات میں ڈال سکتا ہے اور داخلی عدم اطمینان بڑھا سکتا ہے۔
عارف نے کہا کہ ایران بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کے لیے پرعزم ہے اور اپنے حقوق پر سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ انہوں نے حکومت کی جانب سے عوام کو ضروری اشیا کی فراہمی کی کوششوں پر زور دیا۔
ایرانی حکام کا مؤقف ہے کہ امریکی پابندیوں نے معیشت کو متاثر کیا ہے، تیل کی آمدنی اور تجارت پر دباؤ بڑھا ہے جبکہ مہنگائی بڑا مسئلہ بنی ہوئی ہے۔
نائب صدر اول کا بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب خطے میں ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی برقرار ہے، جس سے ایرانی معیشت پر اضافی دباؤ اور مہنگائی بڑھنے کا خدشہ ہے۔


